ہم تو ڈوبے ہیں صنم، ان سب کو بھی ساتھ لے کر ڈوبیں گے، انمول پنکی کا میڈیا کے سوال پر معنی خیز جواب

عدالت سے واپسی پر لیڈی پولیس اہلکار بار بار ملزمہ کا چہرہ ڈھانپنے کی کوشش کرتی رہیں، پنکی بار بار چہرے سے کپڑا ہٹا کر بولنے کی کوشش کرتی رہی

Faizan Hashmi فیضان ہاشمی ہفتہ 16 مئی 2026 13:57

ہم تو ڈوبے ہیں صنم، ان سب کو بھی ساتھ لے کر ڈوبیں گے، انمول پنکی کا  میڈیا ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2026ء) کراچی سے گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کو مزید جسمانی ریمانڈ کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت سے باہر آتے ہی ملزمہ انمول عرف پنکی نے میڈیا کے سوال پر معنی خیز جواب دیا۔ عدالت سے روانگی کے دوران ایک صحافی نے انمول پنکی سے سوال کیا کہ آپ میڈیا سے کیا کہنا چاہتی ہیں؟ جس پر ملزمہ نے جواب دیا کہ ہم تو ڈوبے ہیں صنم، ان سب کو بھی ساتھ لے کر ڈوبیں گے۔

عدالت سے واپسی پر لیڈی پولیس اہلکار بار بار ملزمہ کا چہرہ ڈھانپنے کی کوشش کرتی رہیں، ملزمہ بار بار چہرے سے کپڑا ہٹا کر بولنے کی کوشش کرتی رہی، جبکہ کسٹڈی لےجاتے ہوئے ملزمہ پولیس پر چیخنے بھی لگی۔ ملزمہ پنکی نے عدالت میں اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بے گناہ ہے اور اس کا ان کیسز سے کوئی تعلق نہیں۔

(جاری ہے)

اس نے الزام عائد کیا کہ اس کا سابق شوہر یہ سب کچھ کروا رہا ہے۔ اس پر عدالت نے سوال کیا کہ آخر سابق شوہر ایسا کیوں کر رہا ہے۔ اس پر ملزمہ نے کہا کہ کیونکہ میں نے اس کو چھوڑ دیا ہے، مجھے 3 ماہ پہلے اس نے چھوڑا تھا، جج نے استفسار کیا کہ خلع لی ہے یا طلاق دی تھی؟ ملزمہ نے جواب دیا کہ طلاق دی تھی، نکاح رجسٹرڈ نہیں تھا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کا شناختی کارڈ بلاک ہے اور اس کی نشاندہی پر رائیڈرز کی گرفتاری عمل میں لانا ہے۔

افسر کے مطابق مبینہ گینگ میں غیر ملکی افراد بھی شامل ہیں جبکہ ملزمہ کا چھوٹا بھائی لاہور سے منشیات کا نیٹ ورک چلا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایک لاش بھی ملی ہے، جس کے موبائل فون سے ملزمہ کا نمبر ملا ہے، جبکہ کروڑوں روپے کی مالی ٹرانزیکشنز کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیس میں موجود جو بندہ مر گیاہے اس کا کیاہے، تفتیشی افسر نے کہا کہ ابھی تک نامعلوم ہے، فنگر پرنٹس بھیجے ہوئے ہیں،ملزمہ کے وکیل نے کہا کہ 15 مئی کو ملزمہ کو پیش کرنا تھا، 16 مئی کی صبح پیش کیا گیا ،تفتیشی افسر نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں تین دن کا لکھا ہواہے، عدالت نے کہا کہ تین دن کا ریمانڈ واضح تھا میرے حساب سے ٹھیک پیش کیاہے، اگر پی کو پیش کرتے تو شوکاز ہوگا۔

وکیل ملزمہ نے کہا کہ ڈی ایس پی نے کہا کہ ملزمہ اتنے عرصہ سے کام کر رہی ہے، اگر ہر چیز ان کے پاس ہے تو پہلے کیوں گرفتار نہیں کیا، اصل بندے ان کے ہاتھ نہیں آتے ، دوسروں کو پکڑ لیتے ہیں، قتل کیس دیکھیں قتل کی تاریخوں میں تضاد ہے ، ملزمہ لوہور میں تھی جعلی کیس ہے، بد نیتی پر مبنی ہے۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزمہ نے اپن برانڈ بنایا ہواہے، و ڈبیاں ملی ہیں، وکیل نے کہا پولیس نے اپنی طرف سے ملزمہ کا برانڈ بنایا ہواہے، سارے جعلی کیسز ہیں عدالتی ریمانڈ پر بھیجا جائے، کسی پرانے کیس میں نام نہیں ہے۔ عدالت نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ۔ فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد پنکی کو ڈیوٹی مجسٹریٹ وسطی کی عدالت میں پیش کرنے کیلئے لے جایا گیا۔