ملزمہ پنکی نے 3 شادیاں کیں لیکن تینوں کا نادرا میں ریکارڈ موجود نہیں ہے

ملزمہ بڑی شاطر ہے 15 سال سے منشیات کا نیٹ ورک چلا رہی ہے، پنکی نے ڈی ایس پی سے شادی کی تاکہ کوئی مسئلہ نہ ہو، تفتیشی افسر کا بیان

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ 16 مئی 2026 22:16

ملزمہ پنکی نے 3 شادیاں کیں لیکن تینوں کا نادرا میں ریکارڈ موجود نہیں ..
کراچی (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 16 مئی 2026ء ) تفتیشی افسر کے مطابق پنکی نے 3 شادیاں کیں لیکن تینوں کا نادرا میں ریکارڈ موجود نہیں ہے، ملزمہ شاطر ہے 15سال سے منشیات کا نیٹ ورک چلا رہی ہے، اے آروائی نیوز کے مطابق تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ پنکی نے ڈی ایس پی سے شادی کی تاکہ مسئلہ نہ ہو۔ میڈیا کے مطابق کراچی کی عدالت نے منشیات کیس میں گرفتار ملزمہ پنکی کا 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ منظورکرلیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ سینٹرل کی عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کا 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔ دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے قتل کیس میں ملزمہ پنکی کے جسمانی ریمانڈ میں 2 دن کی توسیع کردی۔ ملزمہ کو پیر کو دوبارہ پیش کرنیکا حکم دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

عدالت نے ضلع جنوبی کے دیگر 13 مقدمات میں ملزمہ کاجوڈیشل ریمانڈ دے دیا۔ ادھر ملیر کی عدالت نے سچل تھانے کے کیس میں انمول عرف پنکی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے تفتیشی افسر سے 14 روز میں چالان طلب کرلیا۔ اس حوالے سے پراسیکویشن کا کہنا ہیکہ عدالتی فیصلہ چیلنج کریں گے۔ سٹی کورٹ میں انمول عرف پنکی نے کمرہ عدالت میں کسی بابا نامی شخص کا انکشاف کیا۔ انمول عرف پنکی کسی بابا کے بندے سے ملنے کی متمنی دکھائی دی۔ کمرہ عدالت میں موجود ایک وکیل سے انمول عرف پنکی نے سوال کیا کہ کیا تمہیں بابا نے بھیجا ہے۔

وکیل کے کہنے پر پنکی کمرہ عدالت میں بابا کا بندہ تلاش کرتی رہی، ملزمہ نے کمرہ عدالت میں کہا، ہم تو ڈوبے ہیں صنم، تمہیں بھی لے ڈوبیں گے۔ وکیل صفائی میر ہدایت اللہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملیر سے عدالتی ریمانڈ حاصل کرلیا گیا ہے۔ یہاں بھی جج صاحب کی صوابدید ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقف یہی ہے کہ جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں۔

دوسری جانب سٹی کورٹ میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث انمول عرف پنکی کے جسمانی ریمانڈ یا جیل بھیجنے سے متعلق احکامات میں رکاوٹ پیش آئی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ سائوتھ نے کہا کہ بجلی آنے کے بعد کریکشن کرکے پھر درخواستوں کا فیصلہ کروں گا۔ سٹی کورٹ میں گزشتہ ایک گھنٹے سے بجلی کی آنکھ مچولی جاری رہی۔ڈیوٹی مجسٹریٹ ضلع وسطی نے انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات کے مقدمے میں جسمانی ریمانڈ سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

ایس آئی یو کے تفتیشی افسر کے مطابق مقدمے میں پہلے ایک ملزم بلال عرف کاشف جیل میں ہے۔ تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ملزمہ نے پولیس کسٹڈی میں تشدد کی شکایت کی، تاہم بظاہر تشدد کے نشانات موجود نہیں ہیں۔ تحریری حکم نامے کے مطابق تفتیشی افسر نے ملزمہ کا میڈیکو لیگل افسر سے معائنہ کراکر رپورٹ پیش کرنے کی تجویز دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزمہ مقدمے میں مفرور تھی اور مختلف سنگین نوعیت کے مقدمات میں بھی ملوث ہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تفتیشی افسر نے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، جبکہ ملزمہ انمول مقدمے میں نامزد ہے اور ایس آئی یو نے پہلی بار ریمانڈ کی درخواست دی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزمہ کے خلاف اسی نوعیت کے دیگر اضلاع میں بھی مقدمات درج ہیں، لہذا ملزمہ کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا جاتا ہے۔تحریری فیصلے کے مطابق 22 مئی کو ملزمہ کو متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا، جبکہ تفتیش کی پیش رفت رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اے آروائی نیوز کے مطابق تفتیشی افسر کے مطابق پنکی نے 3 شادیاں کیں لیکن تینوں کا نادرا میں ریکارڈ موجود نہیں ہے، ملزمہ شاطر ہے 15سال سے منشیات کا نیٹ ورک چلا رہی ہے، پنکی نے ڈی ایس پی سے شادی کی تاکہ مسئلہ نہ ہو۔ کراچی کی عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کا 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ وسطی نے جسمانی ریمانڈ کی پولیس کی اپیل پر فیصلہ سنادیا۔

کراچی میں ڈیوٹی مجسٹریٹ وسطی کی عدالت میں ملزمہ انمول عرف پنکی کو ضلع وسطی میں درج مقدمے کے سلسلے میں پیش کیا گیا، جہاں پولیس نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔اس سے قبل جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی میں منشیات کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کے جسمانی ریمانڈ کے معاملے پر وکلا نے ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ کرنے کی استدعا کردی۔ سٹی کورٹ کراچی، اسپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے ملزمہ انمول پنکی کے خلاف بغدادی تھانے میں درج قتل کے مقدمہ کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔

میڈیا کے مطابق تحریری حکمنامہ میں کاہ گیا کہ ملزمہ انمول پنکی نے پولیس کی جانب سے تشدد کی کوئی شکایت نہیں کی۔ تفتیشی افسر نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ملزمہ منشیات کا ایک بڑا نیٹ ورک آپریٹ کررہی تھی، جاں بحق شخص کے پاس سے ملزمہ پنکی کی فراہم کردہ منشیات برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق مزید ملزمان کی گرفتاری کیلئے ملزمہ سے تفتیش ضروری ہے۔

مذکورہ مقدمہ قتل کا ہے اور ابتدائی شواہد کی بنیاد پر مزید تفتیش ضروری ہے، ابتدائی شواہد بظاہر ملزمہ انمول پنکی کے خلاف ہیں۔ عدالت نے ملزمہ کو دو دن کے جسمانی ریمانڈ پر بغداری پولیس کی تحویل میں دے دیا ، ملزمہ انمول پنکی کو متعلقہ عدالت میں دوبارہ 18مئی کو پیش کیا جائے، پولیس شفاف قانون کے مطابق تفتیش کرکے پیشرفت رپورٹ بھی پیش کرے ۔