کوکین ڈیلر ملزمہ انمول پنکی کیس میں پولیس کو ایک اور کامیابی مل گئی

ذیشان کے ہمراہ گرفتار دوسرا ملزم سہیل ملزمہ پنکی کا اکاؤنٹنٹ نکلا، ملزمان کے اکاؤنٹس سے کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں، منشیات کی خریداری کے عوض 84لاکھ روپے بھیجنے کے شواہد بھی مل گئے

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ 16 مئی 2026 22:34

کوکین ڈیلر ملزمہ انمول پنکی کیس میں پولیس کو ایک اور کامیابی مل گئی
کراچی (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 16 مئی 2026ء ) کوکین ڈیلر ملزمہ انمول پنکی کیس میں پولیس کو ایک اور کامیابی مل گئی ہے۔ میڈیا کے مطابق ڈی آئی جی ساؤتھ پولیس اسد رضا کا کہنا ہے کہ ملزم ذیشان کے ہمراہ گرفتار دوسرا ملزم سہیل ملزمہ پنکی کا اکاؤنٹنٹ نکلا۔ ذیشان کے ساتھ اس کا بھائی سہیل بھی پنکی کے اکاؤنٹس دیکھتا تھا۔

ذیشان اور سہیل کے 6 اکاؤنٹس سے کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز کی گئیں۔ منشیات کی خریداری کے عوض 84 لاکھ روپے بھیجنے کے شواہد بھی حکام کو مل گئے ہیں۔ 84 لاکھ روپے مختلف اوقات میں غیرملکیوں کو ٹرانسفر کئے گئے۔ ملزمہ پنکی نے سمیر نامی شخص کے اکاؤنٹس بھی لین دین کیلئے استعمال کئے ۔ ملزمہ پنکی کے زیراستعمال اب تک 8اکاؤنٹس کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔

(جاری ہے)

بے نامی اکاؤنٹس کی تفصیلات جمع کرنے کیلئے پولیس نے ایف آئی اے سے رجوع کرلیا ہے۔ دوسری جانب سندھ پولیس حکام نے کوکین ڈیلر پنکی سے منشیات خرید کر استعمال کرنے والے افراد کو مقدمات میں گواہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کی سربراہی میں کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ڈی آئی جی اسد رضا، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر ، ڈی آئی جی عرفان بلوچ، عامر فاروقی ، شیراز نذیر، ایس ایس پی ایس آئی یو سمیع اللہ سومروبھی کمیٹی اجلاس میں شریک ہوئے۔

ڈی آئی جی اسد رضا نے کیس کی پیشرفت سے کمیٹی کو آگاہ کیا۔ اجلاس میں ایف آئی اے، اے این ایف متعلقہ اداروں کو لیٹرز لکھنے کی ہدایت کی گئی۔ پنکی کارٹیل کے بینک اکاؤنٹس کا تفصیلی اور باریک بینی سے جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا، رقوم کی منتقلی ، ڈیلرزاور نیٹ ورک کے سراغ کیلئے ٹیکنیکل وسائل استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی۔ کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کیس میں اعلیٰ افسران کی کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا۔

اجلاس میں پنکی سے منشیات خرید کر استعمال کرنے والے افراد کو مقدمات میں گواہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنکی کارٹیل کی منشیات استعمال کرنے والے افراد سے رابطے کئے جائیں گے۔رضاکارانہ طور پر پنکی کے خلاف بیان دینے والے افراد کو گواہ کے طور پر تحقیقات کا حصہ بنایا جائے گا۔ یاد رہے کراچی کی سٹی کورٹ میں منشیات فروشی کے مقدمے میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کو پیش کیا گیا جہاں عدالت نے پولیس کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزمہ کا جسمانی ریمانڈ 22 مئی تک دے دیا۔

عدالت نے ملزمہ کو مزید تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کرنے کا حکم جاری کیا۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ مختلف مقدمات میں مطلوب ہے اور اس سے اہم معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ملزمہ نے منشیات کا اپنا ایک ‘برانڈ’ بنایا ہوا ہے۔ پولیس، دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ایجنسیاں طویل عرصے سے اس کی تلاش میں تھیں۔

حال ہی میں ملزمہ کی نشاندہی پر مزید منشیات بھی برآمد کی گئی ہے اور مزید 11 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ افسر نے مزید بتایا کہ ملزمہ اصل میں لاہور کی ہے لیکن اس کے شناختی کارڈ پر اب بھی کراچی کا پتہ درج ہے۔ اس کا پرانا ڈیٹا اس کے سابقہ شوہر نے بلاک کر رکھا ہے۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ انتہائی شاطر ہے اور 15 سال سے یہ نیٹ ورک چلا رہی ہے جبکہ قانون کی گرفت سے بچنے اور سیکیورٹی مسائل سے نمٹنے کے لیے ملزمہ نے پنجاب میں ایک ڈی ایس پی سے بھی شادی کی تھی، ملزمہ نے مجموعی طور پر 3 شادیاں کیں لیکن حیرت انگیز طور پر آج تک نادرا کے ریکارڈ میں انہیں ظاہر نہیں کیا گیا۔

عدالت نے آئی او سے پوچھا "آپ نے قتل کیس میں کیا تفتیش کی؟ کیا مرنے والے کی شناخت ہوئی؟ تو تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ مقتول کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی، تاہم جب لاش ملی تو اس کی تلاشی کے دوران ملزمہ کے برانڈ کی منشیات کی ڈبی برآمد ہوئی تھی، جس پر مقتول کا لنک ملزمہ سے جڑتا ہے۔ سٹی کورٹ نے منشیات فروش انمول عرف پنکی کا 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے پولیس کےحوالے کردیا گیا، عدالت نے ملزمہ کے خلاف درج مجموعی طور پر 12 مقدمات سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

اس سے قبل کراچی کی ملیر کورٹ نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا، سچل تھانے میں درج مقدمے میں تفتیشی افسر نے عدالت سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی جو مسترد کردی گئی تھی۔