ایڈز سے متاثرہ یتیم بچوں کا عالمی دن آج منایا جائے گا، لاکھوں بچے غربت، بیماری اور محرومی کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور

کہ ایسے بچے صرف معاشی مشکلات ہی نہیں بلکہ ذہنی دبائو، تعلیمی محرومی، غذائی قلت، عدم تحفظ اور سماجی امتیاز جیسے سنگین مسائل کا بھی سامنا کرتے ہیں،ماہرین

اتوار 17 مئی 2026 13:20

پنگریو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 مئی2026ء) دنیا بھر میں آج 18 مئی کو ایڈز سے متاثرہ یتیم بچوں کا عالمی دن منایا جائے گا۔ اس دن کے منانے کا مقصد ایچ آئی وی اور ایڈز کے باعث والدین سے محروم ہونے والے بچوں کے مسائل، تعلیم، صحت، ذہنی بحالی اور بہتر مستقبل کے حوالے سے عالمی سطح پر شعور اجاگر کرنا ہے۔دنیا بھر میں فلاحی ادارے، طبی تنظیمیں، سماجی کارکنان اور انسانی حقوق کے ادارے اس موقع پر خصوصی تقریبات، سیمینارز، آگاہی مہمات اور امدادی پروگرامز کا انعقاد کررہے ہیں تاکہ متاثرہ بچوں کو معاشرے کا محفوظ، باعزت اور مفید فرد بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جاسکیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں بچے ایسے ہیں جنہوں نے ایڈز کے باعث اپنے والدین کو کھودیا۔

(جاری ہے)

ماہرین کے مطابق افریقی ممالک اس مسئلے سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، تاہم ایشیائی اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں بھی ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث یتیم بچوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔سماجی ماہرین نے کہا کہ ایسے بچے صرف معاشی مشکلات ہی نہیں بلکہ ذہنی دبائو، تعلیمی محرومی، غذائی قلت، عدم تحفظ اور سماجی امتیاز جیسے سنگین مسائل کا بھی سامنا کرتے ہیں۔

کئی بچے والدین کے انتقال کے بعد مناسب خوراک، تعلیم، رہائش اور طبی سہولیات سے محروم ہوجاتے ہیں، جبکہ غربت کے باعث کم عمری میں مزدوری اور استحصال جیسے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق ایچ آئی وی وائرس انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو کمزور کردیتا ہے اور بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ مرض ایڈز میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ ایڈز سے متاثرہ خاندانوں میں والدین کی وفات کے بعد بچے اکثر بے سہارا ہوجاتے ہیں اور ان کی کفالت کا کوئی مناسب نظام موجود نہیں ہوتا۔

ماہرین نفسیات نے کہاکہ ایڈز سے متاثرہ یتیم بچوں میں احساس محرومی، خوف، تنہائی اور عدم تحفظ کے جذبات زیادہ پائے جاتے ہیں۔ معاشرے میں موجود غلط فہمیوں اور امتیازی رویوں کے باعث کئی بچے تعلیمی اداروں، سماجی تقریبات اور روزمرہ زندگی میں نفرت اور تعصب کا شکار بھی بنتے ہیں۔سماجی تنظیموں نے زور دیا ہے کہ ایسے بچوں کو ہمدردی، محبت اور مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ بہتر اور باوقار زندگی گزار سکیں۔

دنیا بھر میں اس دن کے موقع پر یتیم بچوں کی کفالت، تعلیم، صحت اور نفسیاتی بحالی کے حوالے سے خصوصی پروگرامز منعقد کیے جارہے ہیں۔ مختلف فلاحی ادارے متاثرہ بچوں کو مفت تعلیم، طبی سہولیات، خوراک اور رہائش فراہم کرنے کے منصوبوں پر کام کررہے ہیں جبکہ کئی ممالک میں حکومتیں بھی سماجی تحفظ کے پروگرامز کے ذریعے ان بچوں کی مدد کررہی ہیں۔

پاکستان میں بھی ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد میں اضافے پر طبی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق آگاہی کی کمی، غیر محفوظ طبی طریقہ کار، غیر معیاری انجیکشن اور خون کی ناقص اسکریننگ بیماری کے پھیلا کی بڑی وجوہات ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو متاثرہ خاندانوں اور یتیم بچوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔تعلیمی اور سماجی ماہرین نے حکومت، غیر سرکاری تنظیموں اور مخیر حضرات پر زور دیا ہے کہ ایڈز سے متاثرہ یتیم بچوں کی کفالت، تعلیم اور علاج کے لیے جامع اور موثر پالیسی اختیار کی جائے۔

ماہرین کے مطابق ان بچوں کو صرف مالی امداد ہی نہیں بلکہ محبت، تحفظ، تعلیم اور باعزت ماحول کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ خود اعتمادی کے ساتھ معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایچ آئی وی اور ایڈز کے خلاف موثر آگاہی، احتیاطی تدابیر، بروقت علاج اور سماجی تعاون کے ذریعے نہ صرف اس بیماری کے پھیلا کو روکا جاسکتا ہے بلکہ متاثرہ بچوں کو محفوظ، روشن اور باوقار مستقبل بھی فراہم کیا جاسکتا ہے۔