میرواعظ فاروق، عبدالغنی لون اور شہدائے حول کو خراج عقیدت، پابندیوں کی مذمت

جمعرات 21 مئی 2026 23:36

اسلام آباد/سری نگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 21 مئی2026ء) حریت رہنما عبد الحمید لون نے شہید میرواعظ مولوی محمد فاروق، عبدالغنی لون اور شہدائے حول کی برسی کے موقع پر انہیں شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بھارتی حکام کی جانب سے کشمیری قیادت پر پابندیوں اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکام نے میرواعظ میر واعظ عمر فاروق کو شہید رہنماؤں کی برسی کے موقع پر سری نگر میں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا ہے، تاکہ انہیں اور دیگر افراد کو شہدائ کو خراج عقیدت پیش کرنے سے روکا جا سکے۔

بیان کے مطابق میرواعظ مولوی فاروق کو 21 مئی 1990 کو سری نگر میں ان کی رہائش گاہ پر نامعلوم مسلح افراد نے شہید کیا تھا، جبکہ اسی روز سری نگر کے علاقے حول میں ان کے جنازے کے جلوس پر بھارتی فوجیوں کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 70 سے زائد سوگوار شہید ہوئے۔

(جاری ہے)

عبدالحمید لون کے مطابق حریت رہنما عبدالغنی لون کو 21 مئی 2002 کو سری نگر میں ایک اجتماع سے خطاب کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر شہید کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ برسی کے موقع پر سری نگر کے عیدگاہ اور مزار شہدائ کے اطراف بھارتی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ علاقے کی طرف جانے والے تمام راستے سیل کر دیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدامات کشمیریوں کو اپنے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے سے روکنے کی کوشش ہیں۔حریت قیادت نے کشمیری رہنماؤں کی گھروں میں نظربندی اور قبرستانوں تک رسائی پر پابندیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات کشمیری عوام کے جذبات اور مذہبی و سماجی اظہار کو دبانے کی ایک منظم پالیسی ہے۔