؁شانگلہ: تحریکِ احتساب کا 2005ء کے بعد سے تمام ترقیاتی منصوبوں اور مبینہ کرپشن کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ، چارٹر آف ڈیمانڈ پیش

، فنڈز کا آڈٹ نہ ہوا تو لانگ مارچ اور دھرنے دیں گی؛ تحریکِ احتساب شانگلہ نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو الٹی میٹم دے دیا

پیر 25 مئی 2026 21:40

ں*شانگلہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 25 مئی2026ء) شانگلہ میں تحریک احتساب کے رہنماؤں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہیں کہ سال 2005 کے بعد شانگلہ بھر میں ہونے والے تمام ترقیاتی منصوبوں، مبینہ کرپشن، بے ضابطگیوں اور نامکمل سکیموں کی شفاف، آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کر کے عوام کو ان کا حق دیا جائے۔یہ مطالبہ تحریک احتساب شانگلہ کے رہنماؤں نیاز خان، محمد عباس خان، محمد شہزاد خان، فضل معبود، ، اعجاز احمد خان، غفار خان، اکمل شاہ اور دیگر نے پیر کے روز شانگلہ پریس کلب الپوری میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

اس موقع پر رہنماؤں نے شانگلہ کے مختلف عوامی مسائل، ترقیاتی محرومیوں اور اصلاحات سے متعلق اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ بھی پیش کیا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ 2005 کے زلزلے کے بعد سے اب تک شانگلہ میں اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز، بحالی اور تعمیر نو کے منصوبے منظور کیے گئے تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔

(جاری ہے)

ان کے مطابق شانگلہ میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ نمایاں طور پر نظر نہیں آتا جبکہ متعدد سکیمیں یا تو نامکمل ہیں، تاخیر کا شکار ہیں یا صرف ریکارڈ تک محدود رہ گئی ہیں۔ان رہنماؤں نے احتسابی اداروں سے مطالبہ کیا کہ شانگلہ میں بھی دیگر اضلاع کی طرز پر ترقیاتی منصوبوں، تعمیراتی کاموں اور فنڈز کا مکمل آڈٹ اور تحقیقات کی جائیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ مختلف قدرتی آفات، بحالی اور ترقی کے نام پر آنے والے وسائل کہاں اور کس مد میں خرچ کیے گئے۔

انھوں نے کہا کہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کیلئے جاری ہونے والے فنڈز منصوبوں کی تکمیل کے بجائے مبینہ طور پر مخصوص حلقوں تک محدود رہیں جس کے باعث شانگلہ آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی سطح کے تمام ترقیاتی اداروں بشمول پاک پی ڈبلیو ڈی، پی ایم ایز، محکمہ بلدیات، محکمہ تعمیرات و مواصلات، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور دیگر متعلقہ اداروں کا مکمل ریکارڈ سامنے لایا جائے اور ٹینڈرز، ادائیگیوں اور منصوبہ جاتی پیش رفت کی جامع جانچ پڑتال کی جائے۔

انھوں نے کہا کہ شانگلہ میں احتساب کے نظام پر عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے ضروری ہیں کہ بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور بااثر عناصر کو بھی قانون کے دائرے میں لایا جائے۔اس موقع پر تحریک احتساب شانگلہ کی جانب سے پیش کیے گئے چارٹر آف ڈیمانڈ میں متعدد عوامی اور ترقیاتی مطالبات شامل کیے گئے۔ چارٹر کے مطابق ضلع شانگلہ میں 2005 کے بعد اب تک ہونے والی ترقیاتی سرگرمیوں، مبینہ کرپشن اور نامکمل سکیموں کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔

تمام سرکاری محکموں میں موجود کرپٹ عناصر کا فوری احتساب کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے جبکہ آر ٹی آئی قوانین کے تحت جمع تمام درخواستوں پر فوری معلومات فراہم کی جائیں۔چارٹر میں صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال الپوری میں ڈاکٹروں کی کمی کو فوری طور پر پورا کیا جائے اور ضروری طبی آلات اور اضافی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ عوام کو علاج کی بہتر سہولتیں میسر آ سکیں۔

اسی طرح چارٹر میں کہا گیا کہ شانگلہ بھر میں تمام نامکمل ترقیاتی سکیموں پر فوری کام دوبارہ شروع کر کے انہیں جلد مکمل کیا جائے۔ بعض عوامی شکایات اور واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ متعلقہ معاملات میں فوری انصاف فراہم کیا جائے اور عوامی سطح پر سامنے آنے والے الزامات اور شکایات کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔چارٹر آف ڈیمانڈ میں مزید مطالبہ کیا گیا کہ مختلف تعمیراتی اور ترقیاتی منصوبوں میں ناقص مواد کے مبینہ استعمال کی تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

شانگلہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو فعال بنایا جائے، کوئلہ کان مزدوروں کے لیے لیبر کالونی قائم کی جائے اور ان کے بچوں کے لیے تعلیمی سہولیات اور سکولوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔اسی طرح شانگلہ کے توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں بالخصوص کروڑہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر فوری عملی پیش رفت اور کام کے آغاز کا مطالبہ بھی شامل کیا گیا۔رہنماؤں نے کہا کہ ان مطالبات کا مقصد کسی سیاسی مفاد کا حصول نہیں بلکہ شانگلہ کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق، شفاف ترقیاتی نظام، بہتر طرز حکمرانی اور حقیقی ترقی سے مستفید کرنا ہیں۔

انھوں نے حکومت، متعلقہ اداروں اور احتسابی نظام سے مطالبہ کیا کہ عوامی احساسات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے چارٹر آف ڈیمانڈ پر سنجیدگی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔آخر میں تحریک احتساب شانگلہ کے رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر صوبائی و وفاقی حکومتوں نے متعلقہ محکموں اور ترقیاتی منصوبوں کی آزادانہ تحقیقات نہ کرائیں اور عوامی مطالبات پر پیش رفت نہ کی گئی تو تحریک احتساب شانگلہ عوامی مشاورت کے بعد احتجاج، لانگ مارچ، دھرنوں اور دیگر آئینی و جمہوری اقدامات سمیت آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرنے پر مجبور ہوگی