کانگو: ایبولا پر قابو پانے کی کوششوں میں عوامی تعاون کی ضرورت، ٹیڈروز
یو این
جمعرات 4 جون 2026
19:45
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 04 جون 2026ء) عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او)کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی وبا پر قابو پانے کی کوششوں میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم تشخیص، نگرانی، ویکسین کی تیاری اور مقامی آبادی کا اعتماد حاصل کرنے میں اب بھی بڑے مسائل موجود ہیں۔
انہوں نے جنیوا میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ ایک روز قبل کانگو کے دورے سے واپس آئے ہیں جہاں اس مہلک وبا پر قابو پانے کے لیے حکومت کے عزم نے انہیں حوصلہ دیا ہے۔
ابتداً یہ وبا تیزی سے پھیل رہی تھی لیکن کانگو کی حکومت کی قیادت میں اب اس کے خلاف موثر کوششیں ہو رہی ہیں۔ یہ وبا ایبولا وائرس کی نایاب قسم بنڈی بگیوکے باعث پھیلی ہے جس کا فی الوقت کوئی منظور شدہ علاج موجود نہیں البتہ اسے روکنے کے لیے تین طرح کی ویکسین کو بہتر بنانے پر کام جاری ہے۔
(جاری ہے)
ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ وبا سے بری طرح متاثرہ صوبے ایتوری کے دارالحکومت بونیا میں ایبولا کے علاج کے تین مراکز فعال ہو چکے ہیں جن میں مجموعی طور پر 80 بستروں کی گنجائش موجود ہے۔ علاوہ ازیں، خطے کے پانچ دیگر شہروں میں بھی علاج کے مراکز قائم کیے جا چکے ہیں اور مزید زیرتعمیر ہیں۔
خطرات اور صحت یابی
کانگو میں اب تک ایبولا کے 344 مصدقہ مریض سامنے آ چکے ہیں جن میں 60 کی موت واقع ہو گئی ہے۔
دوسری جانب، مشتبہ مریضوں کی تعداد گزشتہ ہفتے ایک ہزار سے زیادہ تھی جو اب کم ہو کر 116 رہ گئی ہے کیونکہ طبی ٹیمیں ایسے مریضوں کے زیر التوا جائزے تیزی سے مکمل کر رہی ہیں۔ کانگو کے ہمسایہ ملک یوگنڈا میں ایبولا کے 15 مصدقہ مریض سامنے آئے ہیں جن میں ایک ہلاکت ہوئی ہے۔عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ایبولا سے متعلق خطرے کی سطح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
قومی سطح پر خطرہ بدستور انتہائی زیادہ، علاقائی سطح پر زیادہ جبکہ عالمی سطح پر بہت کم ہے۔اب تک کانگو میں چھ اور یوگنڈا میں دو مریض صحت یاب ہو چکے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مریضوں کو بروقت طبی سہولتیں میسر ہوں اور علامات ظاہر ہوتے ہی علاج شروع کر دیا جائے تو ایبولا سے بچاؤ ممکن ہے۔
سفری پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ
ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ لیبارٹری اور تشخیصی صلاحیتوں میں اضافہ فوری ترجیح ہے تاکہ وبا کے خلاف ردعمل مزید تیز اور موثر بنایا جا سکے۔
مریضوں کے رابطے تلاش کرنے کے عمل کو بہتر بنانے کی بھی ضرورت ہے جو سلامتی سے متعلق خدشات، نقل مکانی اور آبادی کی مسلسل آمدورفت کے باعث مشکل کام بن گیا ہے۔'ڈبلیو ایچ او' نے کانگو پر عمومی سفری پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے کہ ان کے باعث طبی سازوسامان کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے اور امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ آ رہی ہے۔ ادارے نے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور سرحدی گزرگاہوں پر مسافروں کی جانچ پڑتال کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔
مقامی آبادی کے اعتماد کی ضرورت
ڈائریکٹر جنرل نے زور دیا ہے کہ وبا پر قابو پانے کے لیے مقامی آبادی کا اعتماد حاصل کرنا انتہائی اہم ہے۔ کانگو کے دورے میں بعض مقامی رہنماؤں نے انہیں بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں ایبولا سرے سے کوئی بیماری ہی نہیں ہے۔
انہوں نے گزشتہ روز ایک طبی نیٹ ورک کا دوسرا اجلاس طلب کیا جو کووڈ 19 وبا کے بعد قائم کیا گیا تھا۔
اس نیٹ ورک کا مقصد تشخیصی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا، متاثرہ ممالک کو کلینیکل آزمائشوں میں فوری معاونت فراہم کرنا اور وبا کے خلاف مجموعی اقدامات کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا ہے۔ان کا کہنا ہے،اگرچہ ایبولا کے خلاف ویکسین اور ادویات مددگار ثابت ہوں گی، لیکن اس وبا کے خاتمے کی اصل کنجی موثر قیادت، مقامی ذمہ داری، شراکت داری اور باہمی اعتماد ہے۔
متعلقہ عنوان :
مزید اہم خبریں
-
ایران کے ساتھ معاہدے کے قریب ہیں، ممکن ہے کہ ہفتے کے آخر تک معاہدہ طے پا جائے
-
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں2.70 فیصد کمی کے بعد 95.17 ڈالر فی بیرل پر آگئی
-
پاکستان کا بھارت پر آبی معاہدہ معطل کرنے کے بعد پانی کو ہتھیار بنانے کا الزام
-
پاکستان آسٹریلیا انٹرنیشنل ون ڈے سیریز کا تیسرا میچ، پنجاب پولیس نے سکیورٹی انتظامات مکمل کرلئے
-
بلوچستان میں ہم اے آئی کو استعمال کرکے نوجوانوں کو روزگار دیں گے
-
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں فی لیٹر پیٹرول 500 روپے تک فروخت ہونے لگا، متعدد فلنگ اسٹیشنز عارضی بند ہوگئے
-
ماڈل ٹاؤن میں گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی و ہلاکت کیس، تفتیش میں پیشرفت
-
اسرائیل کا غزہ پولیس کو مسلسل نشانہ بنانا قابل مذمت، انسانی حقوق دفتر
-
امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ جھڑپوں پر یو این چیف کو تشویش
-
سلامتی کونسل: پانچ غیر مستقل ارکان کا انتخاب، جرمنی اور فلپائن ناکام
-
کانگو: ایبولا پر قابو پانے کی کوششوں میں عوامی تعاون کی ضرورت، ٹیڈروز
-
یمن: امدادی کٹوتیوں سے لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار، رپورٹ
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.