پاکستان کا بھارت پر آبی معاہدہ معطل کرنے کے بعد پانی کو ہتھیار بنانے کا الزام

DW ڈی ڈبلیو جمعرات 4 جون 2026 20:40

پاکستان کا بھارت پر آبی معاہدہ معطل کرنے کے بعد پانی کو ہتھیار بنانے ..

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 04 جون 2026ء) پاکستان نے جمعرات کے روز بھارت کو خبردار کیا کہ اگر اس نے دریائے چناب پر اپنے دو متنازعہ آبی منصوبے آگے بڑھائے، تو پاکستان اس عمل کا جواب دے گا۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کے دن صحافیوں کو بتایا کہ نئی دہلی نے دریائے چناب پر دو مجوزہ منصوبوں کے بارے میں اسلام آباد سے مشاورت نہیں کی، جبکہ ان کے بقول یہ منصوبے سندھ آبی معاہدے کو کمزور کریں گے۔

بھارت نے رواں سال ان دونوں منصوبوں کا الگ الگ اعلان کیا۔ اس کا موقف ہے کہ جن آبی وسائل پر اس کا کنٹرول ہے، ان پر منصوبے آگے بڑھانا اس کا حق ہے، اگرچہ ان سے دونوں ممالک سے گزرنے والے دریاؤں پر اثر پڑے گا۔

اندرابی نے کہا، ''یہ منصوبے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بھارت پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔

(جاری ہے)

‘‘

انہوں نے مزید کہا، ''اس کے نہ صرف پاکستان کی معیشت بلکہ علاقائی استحکام، بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے بھی خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں۔

‘‘

معاہدہ اب بھی برقرار ہے، پاکستان کا دعویٰ

بھارت نے گزشتہ سال پہلگام حملے کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ سندھ آبی معاہدے کو معطل کر رہا ہے۔ پہلگام حملے میں متعدد بھارتی سیاح مارے گئے تھے۔ اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 90 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سندھ آبی معاہدہ ان آبی گزرگاہوں کے استعمال کو منظم کرتا ہے جن پر کروڑوں افراد کا انحصار ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ یہ معاہدہ اب بھی دونوں ممالک اور ان کی حکومتوں پر قانونی طور پر لاگو ہوتا ہے۔

پاکستان کا موقف ہے کہ 1960 کے اس معاہدے سے کسی بھی ملک کے یکطرفہ طور پر دستبردار ہونے کا کوئی طریقۂ کار موجود ہی نہیں، حالانکہ یہ معاہدہ تین جنگوں کے باوجود برقرار رہا ہے۔

پاکستان پہلے بھی کہہ چکا ہے کہ سرحد پار دریاؤں کے بہاؤ میں تبدیلی کی کسی بھی کوشش کو 'اقدام جنگ‘ تصور کیا جائے گا۔

اندرابی نے مزید کہا، ''پاکستان معاہدے کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ اور اپنے اہم قومی مفادات کے دفاع کے لیے تمام ضروری آپشنز محفوظ رکھتا ہے۔‘‘

تاہم انہوں نے اس حوالے سے کسی مخصوص اقدام کی تفصیل نہیں بتائی۔

ماہرین کے مطابق پانی کا مسئلہ ایسے خطے میں ایک بڑے تنازعے کا سبب بن سکتا ہے، جہاں موسمیاتی تبدیلیاں اور آبادی میں اضافہ وسائل پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ اس کا خاص طور پر اثر زرعی شعبے پر بھی پڑ رہا ہے، جو دونوں ممالک کی معیشتوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

ادارت: مقبول ملک