اسرائیل کا غزہ پولیس کو مسلسل نشانہ بنانا قابل مذمت، انسانی حقوق دفتر

یو این جمعرات 4 جون 2026 19:45

اسرائیل کا غزہ پولیس کو مسلسل نشانہ بنانا قابل مذمت، انسانی حقوق دفتر

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 04 جون 2026ء) مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے غزہ میں اسرائیلی افواج کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو حملوں کا نشانہ بنانے کی سخت مذمت کی ہے۔

دفتر نے بتایا ہے کہ جنوری 2026 سے اب تک پولیس پر کم از کم 12 مصدقہ حملے ریکارڈ ہو چکے ہیں جن میں کم از کم 53 افراد ہلاک ہوئے۔

ان میں 35 پولیس اہلکار، 5 بچے اور ایک خاتون شامل بھی ہیں۔ رواں ماہ ہی پولیس پر چار حملے ہوئے جن میں 12 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی۔ اسرائیلی حملے ایسے مواقع پر بھی کیے گئے جب پولیس اہلکار ٹریفک کی نگرانی، سڑکوں اور بازاروں میں گشت جیسی معمول کی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔

Tweet URL

دفتر نے کہا ہے کہ ان حملوں کے انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری بشمول پولیس اہلکاروں کی جان کی کوئی پروا نہیں کی گئی کیونکہ کئی حملے گنجان آباد علاقوں میں ہوئے جہاں پولیس اہلکاروں کے علاوہ بے گھر افراد، بچے اور قیدی بھی مارے گئے۔

(جاری ہے)

مقبوضہ فلسطینی علاقے میں 'او ایچ سی ایچ آر' کے سربراہ اجیت سنگھے نے کہا ہے کہ قابض طاقت کی حیثیت سے اسرائیل پر بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ہر ممکن طور سے فلسطینیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ لیکن عوامی نظم و نسق اور حکومتی اداروں کو منظم انداز میں نشانہ بنا کر ایسا انتشار پیدا کیا گیا ہے جس کے تباہ کن اثرات عام شہریوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔

اندھا دھند حملے

23 مئی کو غزہ شہر کے علاقے التوام میں ایک پولیس چوکی پر اسرائیلی حملے میں کم از کم پانچ پولیس افسروں سمیت سات افراد کی ہلاکت ہوئی جن میں ایک بچہ بھی شامل تھا۔

24 اپریل کو اسرائیلی ڈرون نے خان یونس کے مغرب میں واقع المواصی کیمپ میں قانون نافذ کرنے کی کارروائی میں مصروف پولیس گاڑی کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں چار پولیس اہلکاروں کے علاوہ تین دیگر مرد اور قریبی خیموں میں موجود ایک نو سالہ بچہ بھی ہلاک ہوئے۔

یہ حملہ مغرب کی نماز کے وقت کیا گیا جب بہت سے فلسطینی قریبی مسجد کی جانب جا رہے تھے۔

31 جنوری کو غزہ شہر کے شمال مغرب میں واقع الشیخ رضوان پولیس سٹیشن پر فضائی حملے میں کم از کم 11 فلسطینی ہلاک ہوئے جن ایک خاتون اور پانچ پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ دیگر چھ افراد میں ایک بچہ، قیدی اور ایسے لوگ شامل تھے جو مختلف خدمات کے حصول کے لیے پولیس سٹیشن آئے تھے۔

اہداف میں عدم امتیاز

'او ایچ سی ایچ آر' نے کہا ہے کہ ان حملوں کا تسلسل اس تشویش کو جنم دیتا ہے کہ اسرائیلی افواج غزہ میں پولیس اہلکاروں اور مسلح گروہوں کے جنگجوؤں میں کوئی فرق نہیں کر رہیں۔ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت پولیس اہلکار شہری شمار ہوتے ہیں اور انہیں حملوں سے تحفظ حاصل ہے یہاں تک وہ جنگی کارروائیوں میں براہ راست شریک ہوں۔

اگر پولیس اہلکاروں کو نفاذ قانون سے متعلق معمول کی داریاں انجام دیتے ہوئے نشانہ بنایا جائے تو یہ جنگی جرم کے مترادف ہو سکتا ہے۔

دفتر کے مطابق، یہ حملے غزہ میں اسرائیل کے اس وسیع تر طرز عمل کا حصہ معلوم ہوتے ہیں جس میں جنگی کارروائیوں کے دوران شہریوں اور شہری تنصیبات کو نقصان سے بچانے کے لیے مسلسل احتیاط برتنے میں ناکامی دکھائی دیتی ہے۔

اگر ان میں سے کسی ایک یا چند حملوں کا ہدف مسلح جنگجو بھی ہوں تو تب بھی گنجان آباد علاقوں میں حملوں کا وقت اور مقام نیز وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا استعمال اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیلی افواج نے شہریوں کی جانوں کے ضیاع کو روکنے یا کم سے کم رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کیں۔