یمن: امدادی کٹوتیوں سے لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار، رپورٹ
یو این
جمعرات 4 جون 2026
19:45
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 04 جون 2026ء) یمن کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے زیرانتظام علاقوں میں نصف آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ اگر بین الاقوامی امداد میں آنے والی کمی کا سلسلہ جاری رہا تو یہ بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔
غذائی تحفظ کے مراحل کی مربوط درجہ بندی (آئی پی سی) کے مطابق، تقریباً 50 لاکھ افراد یعنی کل آبادی کا 47 فیصد شدید غذائی عدم تحفظ کی 'بحرانی' یا اس سے بھی بدتر سطح پر زندگی گزار رہے ہیں جبکہ 14 لاکھ افراد کو 'ہنگامی' درجے کی غذائی قلت کا سامنا ہے۔
خدشہ ہے کہ رواں سال کے دوران یہ تعداد مزید بڑھ جائے گی۔
اقوام متحدہ
کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او)، عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) اور عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ معاشی تباہ حالی، موسمیاتی آفات، روزگار اور ذرائع آمدن کے خاتمے اور انسانی امداد میں کمی کے مشترکہ اثرات نے لوگوں کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں ان کی مشکلات سے نمٹنے کی صلاحیت جواب دینے لگی ہے۔(جاری ہے)
بھوک میں اضافے کا خدشہ
جون سے ستمبر تک جاری رہنے والے قلت خوراک کے موسم میں ایسے لوگوں کی تعداد 15 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے جو ہنگامی درجے کی غذائی قلت سے دوچار ہیں۔ رواں سال اکتوبر سے دسمبر کے موسم میں بھی کسی نمایاں بہتری کی توقع نہیں جب فصلوں کی کٹائی ہوتی ہے۔ اندازوں کے مطابق اس دوران ہنگامی درجے میں شامل لوگوں کی تعداد بڑھ کر 18 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔
یمن
میں خوراک کی کمی ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے جاری خانہ جنگی کے باعث پھیلنے والی غذائی قلت کا نتیجہ ہے۔ غذائی تنوع میں کمی، ناکافی خوراک، حفاظتی غذائی خدمات تک محدود رسائی اور بگڑتے رہائشی حالات شدید غذائی قلت کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ خصوصاً حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین اور کم عمر بچوں کے لیے یہ خطرات کہیں زیادہ ہیں۔معاشی زوال اور امداد کی قلت
اجرتوں کی غیر یقینی ادائیگی، خوراک اور ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، آمدنی کے محدود مواقع اور زرعی پیداوار میں رکاوٹیں بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے سے متعلق لوگوں کی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہیں۔
یمن
کے تقریباً 60 فیصد گھرانے کسی نہ کسی حد تک زراعت پر انحصار کرتے ہیں لیکن فصلیں شدید موسمی حالات، کیڑوں مکوڑوں کے حملوں اور رسد کے نظام میں خلل جیسے مسائل کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔امدادی خوراک و غذائیت، صحت، پانی، صفائی اور حفظان صحت (واش) سے متعلق امدادی پروگرام مالی وسائل کی شدید قلت سے دوچار ہیں جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد ایسے وقت مدد سے محروم ہو سکتے ہیں جب انہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
طبی مدد کی فراہمی
اس صورتحال میں عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) اپنے مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر عدن اور مآرب میں بے گھر افراد کے کیمپوں تک براہ راست طبی خدمات پہنچا رہا ہے تاکہ ملیریا کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹا جا سکے۔
عدن کے الشعب کیمپ میں بے گھر خاندان انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں صحت کے مسائل روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہاں گنجان آبادی، ناقص ماحولیاتی حالات اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث ملیریا اور مچھروں سے پھیلنے والی دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
متحرک طبی ٹیمیں کیمپوں میں جا کر ابتدائی مرحلے میں بیماریوں کی تشخیص اور جانچ کر رہی ہیں۔
اس ضمن میں خاص طور پر ان علاقوں پر توجہ دی جا رہی ہے جہاں صحت کی سہولیات تک رسائی مشکل ہے۔امدادی وسائل کی ضرورت
اقوامِ متحدہ کے اداروں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ یمن میں ضرورت مند لوگوں کے لیے خوراک، غذائیت، صحت، زراعت اور پائیدار بحالی کے پروگراموں کے لیے مالی وسائل میں فوری طور پر اضافہ کرے۔
تینوں اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت، متواتر اور بڑے پیمانے پر اقدامات نہ کیے گئے تو لاکھوں کمزور اور ضرورت مند لوگ مزید بھوک، غذائی قلت اور اپنے معاشی ذرائع کے ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
مزید اہم خبریں
-
ایران کے ساتھ معاہدے کے قریب ہیں، ممکن ہے کہ ہفتے کے آخر تک معاہدہ طے پا جائے
-
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں2.70 فیصد کمی کے بعد 95.17 ڈالر فی بیرل پر آگئی
-
پاکستان کا بھارت پر آبی معاہدہ معطل کرنے کے بعد پانی کو ہتھیار بنانے کا الزام
-
پاکستان آسٹریلیا انٹرنیشنل ون ڈے سیریز کا تیسرا میچ، پنجاب پولیس نے سکیورٹی انتظامات مکمل کرلئے
-
بلوچستان میں ہم اے آئی کو استعمال کرکے نوجوانوں کو روزگار دیں گے
-
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں فی لیٹر پیٹرول 500 روپے تک فروخت ہونے لگا، متعدد فلنگ اسٹیشنز عارضی بند ہوگئے
-
ماڈل ٹاؤن میں گھریلو ملازمہ سے مبینہ زیادتی و ہلاکت کیس، تفتیش میں پیشرفت
-
اسرائیل کا غزہ پولیس کو مسلسل نشانہ بنانا قابل مذمت، انسانی حقوق دفتر
-
امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ جھڑپوں پر یو این چیف کو تشویش
-
سلامتی کونسل: پانچ غیر مستقل ارکان کا انتخاب، جرمنی اور فلپائن ناکام
-
کانگو: ایبولا پر قابو پانے کی کوششوں میں عوامی تعاون کی ضرورت، ٹیڈروز
-
یمن: امدادی کٹوتیوں سے لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار، رپورٹ
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.