جرائم کے واقعات نے عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے، میاں مقصود

منگل 9 جون 2026 23:25

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 جون2026ء) الفاء فاؤنڈیشن آف ہیومن رائٹس انٹرنیشنل کے چئرمین میاں محمد مقصود نے شہر میں جاری لاقانونیت، اسٹریٹ کرائمز، قتل و غارت گری، ڈکیتیوں اور جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کے شہری آج خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر پیش آنے والے جرائم کے واقعات نے عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے جبکہ شہری اپنے جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ رپورٹ میں سامنے آنے والے اعداد و شمار نہایت تشویشناک ہیں، جن کے مطابق چند ماہ کے دوران ہزاروں موبائل فون چھینے اور چوری کیے گئے، سینکڑوں گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چوری ہوئیں جبکہ قتل، اغوا برائے تاوان اور بینک ڈکیتیوں کے متعدد واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

(جاری ہے)

یہ اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جرائم پیشہ عناصر قانون کی گرفت سے آزاد ہو کر شہریوں کے جان و مال سے کھیل رہے ہیں۔

میاں محمد مقصود نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں شہریوں کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کراچی جیسے ملک کے سب سے بڑے تجارتی اور معاشی مرکز میں عوام کو بنیادی تحفظ فراہم کرنے میں متعلقہ ادارے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پا رہے۔ اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اضافہ، ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر شہریوں کا قتل اور اغوا کے واقعات معاشرے کے لیے ایک سنگین خطرے کی علامت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح نہ صرف عوام میں خوف و ہراس پیدا کر رہی ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور معاشی استحکام کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ تاجر برادری، صنعت کار، ملازمت پیشہ افراد، طلبہ، خواتین اور بزرگ شہری سب ہی جرائم کے خطرات سے دوچار ہیں۔ شہریوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور مؤثر کارروائیاں عمل میں لائی جائیں۔

چئرمین الفاء فاؤنڈیشن آف ہیومن رائٹس انٹرنیشنل نے وفاقی اور صوبائی حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے فوری اور ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔ جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی، پولیسنگ کے نظام میں بہتری، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، نگرانی کے مؤثر نظام اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہری خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کا بنیادی تقاضا ہے کہ ہر شہری کو جان، مال اور عزت کے تحفظ کی ضمانت حاصل ہو۔ اگر عوام خود کو محفوظ نہ سمجھیں تو یہ صورتحال نہ صرف قانون کی عملداری بلکہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔ الفاء فاؤنڈیشن آف ہیومن رائٹس انٹرنیشنل شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ، قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔میاں محمد مقصود نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام ریاستی ادارے، سیاسی قیادت، سول سوسائٹی اور عوام مل کر جرائم کے خاتمے اور پرامن معاشرے کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ کراچی ایک بار پھر امن، ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بن سکے۔