Live Updates

ّ سینیٹ کی منصوبہ بندی کمیٹی نے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے متعدد منصوبوں کی منظوری دیدی

,کمیٹی نے مالی سال 2026-27 کے تحت پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے لیے مختص بجٹ کا تفصیلی جائزہ لیا & تین جاری منصوبوں اور ایک نئے بلڈنگ آفس کے لیے 194 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، جو موجودہ مالی سال کے دوران مکمل ہونے کی توقع ہے، حکام پاکستان پوسٹ

منگل 16 جون 2026 22:00

(اسلام آباد (آن لائن) سینیٹ کی منصوبہ بندی کمیٹی نے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے متعدد منصوبوں کی منظوری دیدی۔کمیٹی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر قرة العین مری کی زیر صدارت منعقد ہوئے۔اجلاس میں کمیٹی نے مالی سال 2026-27 کے تحت پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں مختلف وزارتوں اور ڈویڑنز کے لیے مختص بجٹ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پاکستان پوسٹ کے حکام نے بتایا کہ تین جاری منصوبوں اور ایک نئے بلڈنگ آفس کے لیے 194 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، جو موجودہ مالی سال کے دوران مکمل ہونے کی توقع ہے۔

این ایچ اے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ 1.4 ٹریلین روپے مالیت کے ترقیاتی سکیموں کی تجاویز دی گئی تھیں، جن میں سے 224.514 ارب روپے منظور ہوئے۔ حکام نے بتایا کہ رواں سال 22 نئی سکیموں کی تجاویز کے باوجود کوئی نیا منصوبہ شامل نہیں کیا گیا۔

(جاری ہے)

کمیٹی کو بتایا گیا کہ منصوبوں کی لاگت سالانہ تقریباً 6.5 فیصد بڑھ جاتی ہے۔چیئرپرسن سینیٹر قر? العین مری نے فنڈز کی بروقت رہائی پر زور دیتے ہوئے لاگت میں اضافے کو روکنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی نے این۔50 ہائی وے کے کچلاکطڑوب سیکشن کی ڈوئلائزیشن کو تیز کرنے اور حیدرآبادطسکھر موٹروے کی پیش رفت پر تفصیلی بحث کی۔این ایچ اے حکام نے بتایا کہ 71 جاری سکیموں میں سے 21 کو رواں سال مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ اتھارٹی کے پاس حکومت پاکستان کو 3.7 ٹریلین روپے کے کیس ڈویلپمنٹ لون واجب الادا ہیں،۔وزارت اطلاعات و نشریات کے حکام نے بتایا کہ اس کے دو جاری ترقیاتی سکیم رواں سال مکمل ہو جائیں گے۔

۔ وزارت قانون کے 15 جاری منصوبوں میں سے 11 رواں سال مکمل ہونے کی توقع ہے۔نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ ڈویڑن کے 9 منصوبے پچھلے سال سے جاری ہیں۔ ڈویڑن نے پاکستان اگریکلچرل ریسرچ کونسل کی تنظیم نو پر زور دیا۔ریلوے ڈویڑن کو درخواست کے مقابلے میں صرف 9 فیصد الاٹمنٹ ملا ہے۔ چیئرپرسن نے تھر کے علاقے کے منصوبوں کے لیے کم الاٹمنٹ پر تشویش کا اظہار کیا اور تمام شعبوں میں متوازن ترقی پر زور دیا۔

نیشنل ہیلتھ سروسز ڈویڑن کے 10 منصوبے رواں سال مکمل ہونے جبکہ 12 جاری رہیں گے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے پاس 137 جاری منصوبے ہیں اور اسے 46 ارب روپے مختص کیے گئے۔ سپارکو حکام نے بتایا کہ 6 سیٹلائٹس لانچ ہو چکے ہیں اور دو پاکستانی خلاباز چین میں تربیت حاصل کر رہے ہیں، جو رواں سال خلائی مشن میں حصہ لیں گے۔واٹر ریسورسز ڈویڑن نے جاری منصوبوں کو 45 سے کم کر کے 43 کر دیا ہے۔

دیامر بھاشا ڈیم کی لاگت تقریباً 1.2 ٹریلین روپے بتائی گئی۔پاور ڈویڑن کے 48 جاری منصوبے ہیں۔ 98 ارب روپے کی طلب کے مقابلے میں 83.823 ارب روپے منظور ہوئے۔ تاجکستانطپاکستان 500 kV HVDC ٹرانسمیشن پروجیکٹ افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال کے باعث رک گیا ہے۔اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے نیشنل ہیلتھ سروسز اور ریلوے ڈویڑن کے ساتھ جولائی 2026 میں الگ الگ فالو اپ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات