کالعدم ایکشن کمیٹی نے جان بوجھ کر کاروبار زندگی متاثر کر کے مذاکرات کے دروازے خود بند کئے ہیں، طارق فضل چوہدری

بدھ 24 جون 2026 19:31

کالعدم ایکشن کمیٹی نے جان بوجھ کر کاروبار زندگی متاثر کر کے مذاکرات ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جون2026ء) وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں دھرنے پر بیٹھی کالعدم ایکشن کمیٹی نے جان بوجھ کر کاروبار زندگی متاثر کر کے مذاکرات کے دروازے خود بند کئے ہیں، وہاں پر سکیورٹی فورسز کے 4 اہلکار جان کی بازی ہار گئے ہیں، تشدد کا راستہ اختیار کرنے والوں کیخلاف ریاست کا جو کردار بنتا ہے وہ ادا کرے گی، ہمارے پاس مصدقہ اطلاعات موجود ہیں کہ وہ تشدد کے راستے پر ہیں۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک ایف سی اہلکار سمیت 4 اہلکار شہید ہوئے، وہ پرامن طور پر اپنے مطالبات کے حوالے سے بات کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں، ہم نے ان کے سامنے تمام آپشن رکھے لیکن انہوں نے مذاکرات سے انکار کیا، وہ جان بوجھ کر آزاد کشمیر میں کاروبار زندگی کو متاثر کر رہے ہیں، مذاکرات کے راستے خود بند کئے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکل سکتا تھا لیکن جو راستہ انہوں نے اختیار کیا ہے اس میں ریاست اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور آئندہ بھی ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس مصدقہ اطلاعات موجود ہیں کہ اس تشدد کے پیچھے بیرونی عناصر ملوث ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ یہاں بروقت انتخابات ہوں۔ آزاد کشمیر کے عبوری آئین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ انتخابات اپنے مقررہ پر نہ ہوں وہ ریاست کے مفادات کیخلاف کام کر رہے ہیں، ہمارے کسی وزیر نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ مہاجر نشستیں ان کی جماعت کو ملیں گی، کئی بار ایسا ہوا ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہوتے ہوئے بھی یہاں سے (ن) لیگ کامیاب نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کو دیکھا جائے تو وفاق میں جس پارٹی کی حکومت ہوتی ہے آزاد کشمیر میں بھی اسی کی حکومت بنتی ہے اور مہاجرین اور آزاد کشمیر کی نشستوں پر ایک ساتھ انتخابات ہوتے ہیں۔ یہ نشستیں پنجاب کے علاوہ کراچی اور خیبر پختونخوا میں بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آزاد کشمیر کاز کیلئے جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال احتجاج کے دوران ایکشن کمیٹی کے جو لوگ اپنی جان سے گئے ان کے لواحقین کو سرکاری ملازمتیں دی گئیں، آٹے اور بجلی پر دی جانے والی سبسڈی آج بھی برقرار ہے۔ یہ ساری سہولیات عوامی نوعیت سے متعلق ہیں جو واپس نہیں لی گئیں، صرف حکومت نے اپنی عملداری قائم کی ہے اور حکومت کے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔