قرضوں کا حجم81.93کھرب تک پہنچنا تشویشناک صورتحال ہے‘ مدثرمسعود چوہدری

پیر 29 جون 2026 21:50

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 29 جون2026ء) پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف)انجم نثار گروپ کے رکن اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی سابق ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن مدثر مسعود چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کے مجموعی قرضے بڑھ کر 81.93کھرب روپے تک پہنچ گئے ہیں جو تشویشناک صورتحال ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران مرکزی حکومت کے اندرونی قرضوں میں 3.6کھرب روپے جبکہ بیرونی قرضوں میں 400ارب روپے سے زائد اضافہ ہوا۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپنے اخراجات اور پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے مسلسل نئے قرضے لینے پر انحصار کر رہی ہے۔مدثر مسعود چوہدری نے کہا کہ یہ درست ہے کہ مختلف حکومتوں کو مشکل معاشی حالات ورثے میں ملے تاہم قرضوں میں کمی کے لیے مستقل قومی پالیسی اور موثراصلاحات متعارف کرانے کے بجائے بار بار قرض لینے کا راستہ اختیار کیا گیا۔

(جاری ہے)

اس کے نتیجے میں ملک ایک ایسے چکر میں پھنس گیا ہے جہاں پرانے قرضے اتارنے کے لیے نئے قرضے لیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، عالمی تجارت، توانائی کی منڈیوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ معیشت کے لیے مزید خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور پالیسی سازی میں غلطی کی گنجائش کم رہ جاتی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو مضبوط ریونیو نظام، سرکاری اخراجات میں نظم و ضبط اور ایسی معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے جو ملکی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں۔