Live Updates

سینیٹ ذیلی کمیٹی برائے آئی ٹی کا ٹیلی کام ٹاورز سے ڈیزل چوری کے واقعات پر تشویش کا اظہار، سخت قانون سازی کی سفارش

بدھ 1 جولائی 2026 23:06

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 01 جولائی2026ء) سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے آئی ٹی نے ٹیلی کام ٹاورز سے ڈیزل چوری کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت قانون سازی کی سفارش کی ہے۔کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سعدیہ عباسی کی زیرِ صدرات بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ٹیلی کام ٹاورز سے ڈیزل کی چوری، انٹرنیٹ سروسز کے مسائل اور لوڈشیڈنگ کے باعث ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں ذیلی کمیٹی کے رکن سینیٹر کامران مرتضیٰ، سپیشل سیکرٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی ای) اور یونیورسل سروسز فنڈ (یو ایس ایف) کے حکام نے شرکت کی۔ کنوینر سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ ٹیلی کام سروسز اب لازمی خدمات ہیں، لہٰذا ٹیلی کام انفراسٹرکچر سے چوری کے واقعات پر سخت قانون سازی کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے ٹیلی کام ٹاورز سے ڈیزل اور دیگر آلات کی چوری سے سروسز متاثر ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔کمیٹی کو پی ٹی اے حکام نے بتایا کہ چوری کے خلاف قانون موجود ہے، تاہم ٹیلی کام آپریٹرز کو ایف آئی آر درج کرانے میں مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے مقدمات درج نہیں ہوتے۔ انہوں نے بتایا کہ دو تین سیکیورٹی گارڈز رکھنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، البتہ ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹاورز کی 24 گھنٹے کیمرہ مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔

حکام نے مزید کہا کہ ڈیزل چوری کی صورت میں مقدمہ درج کرانے کے لیے الگ ایس او پی بنانے کی ضرورت ہے۔ پی ٹی اے نے ٹیلی کام آپریٹرز کو ڈیزل چوری کے واقعات کی فوری ایف آئی آر درج کرانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ وزارت آئی ٹی کے حکام نے کہا کہ ڈیزل چوری ہونے پر صوبائی پولیس افسران کے ساتھ رابطہ کاری کی جائے گی۔ اجلاس کے دوران سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ بعض علاقوں میں امن و امان کی خراب صورتحال اور سیکورٹی مسائل کی وجہ سے بھی ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ بعض علاقوں میں 12 سے 14 گھنٹے لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ٹیلی کام سروسز شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ پی ٹی اے حکام نے کہا کہ طویل لوڈشیڈنگ کے دوران آپریٹرز جنریٹرز چلا کر سروسز فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہتے۔اس حوالے سے ٹیلی کام ٹاورز کو لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ وزارت آئی ٹی کے حکام نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے اس مسئلے کے حل کے لیے سیکرٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کر دی ہے۔

کمیٹی میں چیئرمین پی ٹی اے، نیپرا، پاور ڈویڑن اور ٹیلی کام انڈسٹری کے نمائندے شامل ہیں۔کمیٹی ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کے لیے سمارٹ حل تجویز کرے گی۔ فیڈر آف ہونے کی صورت میں الگ سپلائی دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ کمیٹی تین ماہ میں اپنی رپورٹ وفاقی حکومت کو جمع کرائے گی۔حکام نے واضح کیا کہ ٹیلی کام کمپنیاں بجلی کے بل 100 فیصد ادا کرتی ہیں، پھر بھی لوڈشیڈنگ سے متاثر ہو رہی ہیں۔ ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو انڈسٹریل پاور ٹیرف دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔اجلاس میں ذیلی کمیٹی نے ٹیلی کام انفراسٹرکچر سے چوری کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین کا جائزہ لینے اورمسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔۔۔
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات