واٹس ایپ نے یوزر نیم فیچر پر بھارتی حکومت کے تحفظات کو مسترد کردیا

جمعرات 2 جولائی 2026 22:16

واٹس ایپ نے یوزر نیم فیچر پر بھارتی حکومت کے تحفظات کو مسترد کردیا
نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جولائی2026ء) واٹس ایپ نے اپنے نئے یوزر نیم فیچر پر بھارتی حکومت کے تحفظات کو مسترد کردیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے میٹا کی زیرملکیت میسجنگ ایپ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ یوزر نیم فیچر کو متعارف نہ کرائے اور وضاحت کرے کہ وہ فراڈ اور لوگوں کی جانب سے معروف افراد کے طور پر خود کو پیش کرنے سے کیسے روکے گی۔

بھارتی حکومت کے مطابق جب لوگوں کو واٹس ایپ پر فون نمبر چھپا کر دیگر سے رابطہ کرنے کا موقع ملے گا تو اس سے فراڈ کرنے والوں کو نئے مواقع حاصل ہوں گے۔اس حوالے سے واٹس ایپ کے ایک ترجمان نے بیان جاری کیا ہے۔ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے فیچر کو ڈیزائن کرتے ہوئے ان تحفظات کو پہلے ہی دور کر دیا تھا۔

(جاری ہے)

ترجمان کے مطابق ہم نے ابھی لوگوں کو واٹس ایپ میں اپنے ترجیحی یوزر نیم ریزرو کرنے کا آپشن فراہم کیا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ ابھی یوزر نیم کو استعمال نہیں کیا جاسکتا اور ہم اس فیچر کو رواں سال کسی وقت بتدریج متعارف کرائیں گے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو دیگر افراد کی نقل کرنے سے روکنے کے لیے ہم نے عوامی شخصیات، فنکاروں، ویریفائیڈ میٹا اکانٹس، حکومتی اداروں اور دیگر کے پروفائلز نیمز صرف ان کے لیے محفوظ رکھے ہیں۔خیال رہے کہ 30 جون کو واٹس ایپ نے یوزر نیم فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔

اس موقع پر کمپنی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ معروف شخصیات اور اعلی سرکاری عہدیداروں کے نام عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے تاکہ جعل سازی اور دھوکا دہی سے بچا جا سکے۔میٹا کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ فون نمبرز تک رسائی کو محدود کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ واٹس ایپ کے کسی گروپ کو جوائن کرنے یا کسی شخص یا ادارے کو پہلی بار میسج کرنے جیسے معاملات میں کسی بھی صارف کا نمبر دیگر صارفین کے ساتھ خود بخود شیئر نہیں ہوگا۔بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ جب یوزر نیم فیچر کی مدد سے آپ ایک باریوزر نیم کا انتخاب کرلیں گے تو پھر جو کوئی بھی واٹس ایپ پر رابطہ کرنا چاہے اسے آپ کا صحیح یوزر نیم معلوم ہونا ضروری ہے۔

متعلقہ عنوان :