ٹرمپ نے ایک ہی سال میں کرپٹوکرنسی کاروبارسی2 ارب ڈالرکمالئے

جمعرات 2 جولائی 2026 22:09

ٹرمپ نے ایک ہی سال میں کرپٹوکرنسی کاروبارسی2 ارب ڈالرکمالئے
واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سال 2025 کی مالیاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے اپنی دوسری مدتِ صدارت کے پہلے سال کے دوران کم از کم 2.2 ارب ڈالر کی آمدن حاصل کی، جس میں سب سے بڑا حصہ کرپٹو کرنسی سے متعلق کاروبار کا رہا۔ 927 صفحات پر مشتمل مالیاتی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے کرپٹو انڈسٹری سے ایک ارب ڈالر سے زائد کمائے، جبکہ ان کی مجموعی آمدن 2024 کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ رہی۔

گزشتہ سال ان کی آمدن تقریبا 600 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کو سیلیبیریشن کوئنز نامی ادارے سے تقریبا 635 ملین ڈالر کی رائلٹی حاصل ہوئی۔ اس کے علاوہ انہوں نے ورلڈ لبرٹی فنانشنل نامی کرپٹو کمپنی سے 500 ملین ڈالر سے زائد آمدن حاصل کی۔

(جاری ہے)

اس کمپنی کے قیام میں ٹرمپ کے بیٹوں اور ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے بچوں کا کردار بھی بتایا گیا ہے۔

مالیاتی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرپٹو کرنسی سے حاصل ہونے والی آمدن نے پہلی مرتبہ ٹرمپ کے روایتی رئیل اسٹیٹ کاروبار کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، جو کئی دہائیوں سے ان کی دولت اور کاروباری شناخت کا بنیادی ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے مشہور مارا لاگو کلب سے تقریبا 77 ملین ڈالر کمائے، جبکہ فلوریڈا کے شہر ڈورال میں واقع گالف کلب سے ان کی آمدن 122 ملین ڈالر رہی۔

اس کے علاوہ نیو جرسی، فلوریڈا اور اسکاٹ لینڈ میں موجود ان کے مختلف گالف کلبز سے بھی 30، 30 ملین ڈالر سے زائد آمدن حاصل ہوئی۔مالیاتی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے نام سے منسوب مختلف برانڈڈ مصنوعات، جن میں گھڑیاں، جوتے، خوشبوئیں، گٹار اور دیگر اشیا شامل ہیں، ان کی فروخت اور لائسنسنگ کے ذریعے تقریبا 4.7 ملین ڈالر کی رائلٹی حاصل کی۔

دوسری جانب وائٹ ہائوس نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے عہدے سے مالی فائدہ اٹھایا۔ حکومتی موقف کے مطابق تمام کاروباری سرگرمیاں متعلقہ قوانین کے مطابق انجام دی جا رہی ہیں اور مالیاتی رپورٹ میں تمام معلومات شفاف انداز میں ظاہر کی گئی ہیں۔سیاسی اور مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ کرپٹو کرنسی کی صنعت ٹرمپ کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکی ہے، جبکہ ان کی روایتی رئیل اسٹیٹ اور برانڈ لائسنسنگ سے حاصل ہونے والی آمدن بھی بدستور مضبوط رہی ہے۔