بیجنگ نے اپنے نئے نسلی قانون پر امریکی، یورپی تنقید رد کر دی

DW ڈی ڈبلیو جمعہ 3 جولائی 2026 18:00

بیجنگ نے اپنے نئے نسلی قانون پر امریکی، یورپی تنقید رد کر دی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 03 جولائی 2026ء) دو روز قبل نافذ ہونے والا یہ نیا قانون بیجنگ کو چین سے باہر موجود ایسے افراد اور گروہوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی بنیاد فراہم کرتا ہے، جن پر ''نسلی اتحاد کو نقصان پہنچانے، نسلی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے یا نسلی علیحدگی پسندی کو ہوا دینے‘‘ کا الزام ہو۔

چین نے یہ قانون مارچ میں منظور کیا تھا، جس کا مقصد ملک میں موجود 55 نسلی اقلیتی گروہوں، جن میں تبتی اور ایغور بھی شامل ہیں، کے درمیان مشترکہ قومی شناخت کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔

ان میں سے بعض گروہ چینی حکمرانی پر اعتراض کرتے رہے ہیں اور ماضی میں احتجاج بھی کرتے رہے ہیں، جن میں سے بعض احتجاجی واقعات پرتشدد بھی تھے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گوو جیاکن نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانا تمام نسلی گروہوں کے حقوق اور مفادات کے بہتر تحفظ اور قومی اتحاد کے فروغ میں مددگار ثابت ہو گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا، ''بعض ممالک نظریاتی تعصب اور سیاسی مقاصد کے تحت چین کی معاشی و سماجی ترقی اور انسانی حقوق کے شعبے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بیجنگ کی نسلی اتحاد کی پالیسیوں کے خلاف بے بنیاد معلومات پھیلا رہے ہیں۔

‘‘

گوو جیاکن نے مزید کہا کہ یہ ممالک جھوٹی معلومات کے ذریعے چین کی نسلی پالیسیوں کو بدنام کر رہے ہیں، اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں اور قومی نسلی اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے متعلقہ ممالک پر زور دیا کہ وہ حقائق کا احترام کریں، غلط معلومات پھیلانے سے باز رہیں اور نام نہاد نسلی مسائل کو سیاسی رنگ دینا بند کریں۔

تائیوان میں تشویش

اس قانون پر تائیوان میں خاص طور پر تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ حکام کا کہنا ہے کہ بیجنگ اسے تائیوان کی آزادی کے حامی افراد کے خلاف ایک اضافی قانونی بنیاد کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔

تائیوان کی مین لینڈ افیئرز کونسل کے سربراہ چیو چوئی چینگ نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا کہ اس قانون کا دائرہ اختیار ''عالمی اور تقریباً لامحدود‘‘ ہے۔

انہوں نے تائیوان کے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ بیلاروس اور کمبوڈیا جیسے چین کے قریبی اتحادی ممالک کا سفر کرتے وقت احتیاط برتیں، کیونکہ وہاں سے انہیں چین کے حوالے کیے جانے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

چیو نے کہا، ''یہ تقریباً ایک شاہی فرمان کی مانند ہے، جس کا دائرہ اختیار دنیا بھر تک پھیلا ہوا محسوس ہوتا ہے، گویا پوری دنیا اس کی پابند ہو۔

‘‘

دوسری جانب تائیوان کی حکومت نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ بیجنگ کے خود مختاری کے دعووں کو مسترد کرتی ہے اور چین کے قانونی نظام کو تائیوان پر کسی بھی قسم کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔

ادھر چین کے تائیوان سے متعلقہ امور کے دفتر کی ترجمان ژو فینگ لیان نے کہا کہ عام تائیوانی شہریوں کو چین کا سفر کرنے پر تشویش کی ضرورت نہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ''تائیوان کی آزادی کی قوتیں علیحدگی پسندی یا قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے کی سرگرمیوں میں ملوث ہوئیں تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔‘‘

ادارت: مقبول ملک