گوجرانوالہ میں توہم پرستی کی انتہا، جنات اور کالے جادو کے شبہ پر ماں نے چار سالہ معصوم بیٹی کو چولہے پر جلا ڈالا،

حنا پرویز بٹ کا میو ہسپتال لاہور کا دورہ، متاثرہ بچی مرہا اشفاق کی عیادت، پولیس کارروائی پر سی پی او گوجرانوالہ کو خراجِ تحسین

اتوار 5 جولائی 2026 12:13

گوجرانوالہ میں توہم پرستی کی انتہا، جنات اور کالے جادو کے شبہ پر ماں ..
لاہورر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین05 جولائی2026ء) پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئرپرسن حنا پرویز بٹ نے میو ہسپتال لاہور کا دورہ کیا اور گوجرانوالہ میں توہم پرستی، کالے جادو اور جنات کے شبہ میں جلائی جانے والی چار سالہ کم سن متاثرہ بچی مرہا اشفاق کی عیادت کی۔ حنا پرویز بٹ نے متاثرہ بچی کی طبیعت دریافت کی اور ڈاکٹرز سے علاج معالجے کے حوالے سے بریفنگ لی۔

انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ بچی کے علاج میں کسی قسم کی کمی نہیں آنی چاہیے اور اسے بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ حنا پرویز بٹ نے کہا کہ گوجرانوالہ میں چار سالہ معصوم بچی کو کالے جادو اور جنات کے وہم میں آگ لگانے کا واقعہ انتہائی افسوسناک، دردناک اور انسانیت سوز ہے۔ اس قسم کے واقعات ہمارے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہیں، جہاں آج بھی کچھ لوگ توہم پرستی، جعلی عاملوں اور جھوٹے پیروں کے بہکاوے میں آ کر معصوم بچوں اور خواتین کی زندگیاں خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کسی بھی وہم، جھوٹے عقیدے، کالے جادو یا جعلی بابا کے کہنے پر کسی انسان کو نقصان پہنچانا نہ صرف ایک سنگین جرم ہے بلکہ ایک خطرناک سماجی برائی بھی ہے۔ ایسے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں جو معصوم بچوں پر ظلم کریں یا والدین کو گمراہ کر کے گھروں کو تباہ کریں۔ حنا پرویز بٹ نے سی پی او گوجرانوالہ اور ان کی پولیس ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا، بچی کی جان بچانے کے لیے بروقت اقدامات کیے اور متاثرہ بچی کو علاج کے لیے فوری طور پر ہسپتال منتقل کروایا۔

انہوں نے کہا کہ گرفتار ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ ایسے سفاک اور بے رحم لوگوں کو نشانِ عبرت بنایا جا سکے۔ بچوں اور خواتین پر ظلم وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی واضح ریڈ لائن ہے، اور پنجاب حکومت خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے۔ حنا پرویز بٹ نے کہا کہ پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی متاثرہ بچی اور اس کے کیس کو مکمل طور پر فالو کرے گی۔

متاثرہ بچی کو طبی، قانونی اور نفسیاتی معاونت کی فراہمی کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطہ رکھا جائے گا۔ انہوں نے والدین اور عوام سے اپیل کی کہ توہم پرستی، جعلی پیروں اور عاملوں سے دور رہیں۔ اگر کہیں بچوں یا خواتین کے ساتھ ظلم، تشدد یا کسی خطرناک صورتحال کی اطلاع ملے تو فوراً پولیس یا متعلقہ اداروں کو آگاہ کریں، کیونکہ بروقت اطلاع ایک معصوم جان بچا سکتی ہے۔ حنا پرویز بٹ نے کہا کہ “خواتین کے لیے محفوظ پنجاب” کے ساتھ ساتھ بچوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ معاشرے کو خاموش تماشائی بننے کے بجائے ظلم کے خلاف فوری آواز اٹھانی ہوگی۔