کوئٹہ کے نیو سبزل، سی پیک روڈ میں نالوں کے آلودہ پانی سے کاشت کی گئی 28 ایکڑ سے زائد رقبے پر موجود دھنیا، پودینہ، گوبھی، چقندر، سلاد اور دیگر سبزیوں کی فصلیں تلف

پیر 6 جولائی 2026 21:30

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 جولائی2026ء) بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جانب سے سیوریج کے آلودہ پانی سے کاشت کی جانے والی مضرِ صحت سبزیوں کے خلاف جاری خصوصی کریک ڈاؤن تیسرے روز بھی بھرپور انداز میں جاری رہا۔ کارروائیوں کے دوران نیو سبزل، سی پیک روڈ میں نالوں کے آلودہ پانی سے کاشت کی گئی 28 ایکڑ سے زائد رقبے پر موجود دھنیا، پودینہ، گوبھی، چقندر، سلاد اور دیگر سبزیوں کی فصلیں تلف کر دی گئیں تاکہ یہ غیر محفوظ سبزیاں مارکیٹ تک نہ پہنچ سکیں۔

کریک ڈاؤن کے دوران بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی خصوصی فیلڈ ٹیموں نے موقع پر فصلوں کو تلف کرنے کے ساتھ ساتھ سیوریج کے پانی کی فراہمی کے ذرائع کی نشاندہی کی اور انہیں منقطع کرنے کے اقدامات بھی کیے۔ کارروائی کے دوران بلوچستان پولیس نے سیکیورٹی اور انتظامی معاونت فراہم کی، جس کے باعث آپریشن مؤثر اور بلا رکاوٹ جاری رہا۔

(جاری ہے)

ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی حبیب اللہ خان نے کہا کہ عوام کو محفوظ، معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی اتھارٹی کی اولین ذمہ داری ہے اور شہریوں کی صحت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ذاتی مفاد کے لیے عوامی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو متعدد بار آگاہ کیا جا چکا ہے کہ سیوریج کے پانی سے صرف غیر خوردنی فصلوں کی کاشت کی اجازت ہیجبکہ سبزیوں اور دیگر خوردنی اجناس کی ایسی کاشت قانوناً ممنوع ہے۔ اس کے باوجود خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

ڈی جی بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے مزید کہا کہ مضرِ صحت سبزیوں کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کا مکمل خاتمہ اتھارٹی کے جاری کریک ڈاؤن کا بنیادی مقصد ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے کاشت سے لے کر منڈیوں اور مارکیٹوں تک نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ آلودہ اور غیر محفوظ خوراک کسی بھی صورت عوام تک نہ پہنچ سکے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کر رہی ہے تاکہ سیوریج کے پانی کے غیر قانونی استعمال کی مستقل روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔

بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبہ بھر میں فوڈ سیفٹی قوانین پر مؤثر عملدرآمد، عوامی صحت کے تحفظ اور محفوظ خوراک کی فراہمی کے لیے بلاامتیاز کارروائیاں آئندہ بھی اسی تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی۔