ٴْسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کاسینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت اجلاس

منگل 7 جولائی 2026 22:00

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 07 جولائی2026ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں کمیٹی نے وارنٹ آف پریزیڈینس کے معاملے پر وزیراعظم کو خط لکھنے اور آئندہ اجلاس میں سیکرٹری قانون کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں این ڈی ایم اے ترمیمی بل اور سرکاری تقریبات میں اعلیٰ شخصیات کے وارنٹ آف پریزیڈینس کے مطابق بیٹھنے کی ترتیب سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

کمیٹی میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے تجویز دی کہ این ڈی ایم اے کو صوبائی پی ڈی ایم ایز کے فنڈز کی بھی نگرانی کا اختیار دیا جائے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ امدادی رقوم حقیقی مستحقین تک پہنچیں۔

(جاری ہے)

اس موقع پر سینیٹر سعدیہ عباسی نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجویز صوبائی خودمختاری کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی پی ڈی ایم ایز وزرائے اعلیٰ کے ماتحت ادارے ہیں اور وفاق کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ صوبائی ادارے اپنے فنڈز کہاں اور کیسے خرچ کرتے ہیں۔

اجلاس میں سرکاری تقریبات میں اعلیٰ شخصیات کے بیٹھنے کی ترتیب (وارنٹ آف پریزیڈینس) کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جہاں سینیٹر انوشہ رحمان نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ وارنٹ آف پریزیڈینس میں ارکان پارلیمنٹ کا نمبر سولہواں ہے، جبکہ ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن، گورنر اسٹیٹ بینک، اٹارنی جنرل اور آڈیٹر جنرل سمیت کئی عہدیدار ان سے پہلے درج ہیں، حالانکہ منتخب نمائندے آئین کے تحت عوام کے نمائندے ہیں۔

سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ قائمہ کمیٹی کی سفارشات وزیراعظم کو بھجوائی جا چکی ہیں اور معاملہ اس وقت وزیراعظم کے زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ وارنٹ آف پریزیڈینس میں ترمیم آسان معاملہ نہیں اور اس پر وزیراعظم کے فیصلے کے بعد ہی پیش رفت ممکن ہوگی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آئینی عدالت کے چیف جسٹس کا نام بھی وارنٹ آف پریزیڈینس میں شامل کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے کہا کہ جن عہدیداروں کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ آئینی عہدوں پر فائز ہیں۔ اس پر سینیٹر انوشہ رحمان نے جواب دیا کہ ارکان پارلیمنٹ بھی آئین کے تحت منتخب نمائندے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ 17 برس سے یہ معاملہ اٹھا رہی ہیں، جس پر سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے کہا کہ ''جہاں آپ نے 17 سال انتظار کیا، وہاں مجھے بھی چند دن دے دیں۔

''کمیٹی نے وارنٹ آف پریزیڈینس کے معاملے پر وزیراعظم کو خط لکھنے اور آئندہ اجلاس میں سیکرٹری قانون کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔اس موقع پر سینیٹر ایمل ولی نے کہا کہ ایک سال قبل بھی کمیٹی کی سفارشات وزیراعظم کو بھیجی گئی تھیں، لیکن اب تک ان پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم کے پاس وقت نہیں تو یہ ذمہ داری کسی اور کو سونپ دی جائے۔ اس پر سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے جواب دیا کہ کابینہ سیکرٹریٹ کے انچارج وزیراعظم خود ہیں۔