بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے، شیری رحمانپانی کو سیاسی دباؤ کا ذریعہ بنانا خطے کے امن کے لیے خطرناک ہے، شیری رحمان کا انتباہ

منگل 7 جولائی 2026 22:17

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی بین الاقوامی قوانین کے خلاف ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 07 جولائی2026ء) پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے متعلق بھارت کے مؤقف پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنا بین الاقوامی آبی معاہدوں کی روح اور عالمی قوانین کے منافی ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں شیری رحمان نے کہا کہ پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے اور ملک اپنے جائز آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قومی اور بین الاقوامی فورم پر مؤثر آواز بلند کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے آبی معاملات کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کے لیے خطرناک رجحان ہے، جبکہ پانی کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش سنگین علاقائی نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کسی ایک ملک کی خواہش پر نہ ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی معطل کیا جا سکتا ہے۔

ان کے مطابق بین الاقوامی ثالثی عدالت بھی واضح کر چکی ہے کہ معاہدے سے متعلق تمام تنازعات طے شدہ قانونی طریقہ کار کے تحت ہی حل کیے جائیں گے، لہٰذا عالمی ثالثی کے فیصلوں اور بین الاقوامی قوانین کا احترام تمام ممالک کی ذمہ داری ہے۔شیری رحمان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ گزشتہ چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے آبی تنازعات کے حل کے لیے ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد فریم ورک ثابت ہوا ہے، اس لیے بھارت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو خطے میں اعتماد، امن اور استحکام کو نقصان پہنچائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک زیریں دریائی ملک ہونے کے باعث اپنے آبی وسائل کے تحفظ کو قومی سلامتی کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دریاؤں کے قدرتی بہاؤ اور پانی کی منصفانہ تقسیم کے اصولوں کا احترام ناگزیر ہے، کیونکہ آبی حقوق کا تحفظ پاکستان کی زراعت، معیشت، غذائی تحفظ اور مستقبل سے براہِ راست وابستہ ہے۔سینیٹر شیری رحمان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی آبی معاہدوں کے احترام کو یقینی بنانے اور پانی کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان قانونی، سفارتی اور تکنیکی ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔