غزہ ،علاج نہ ملنے سے 1,500سے زائد مریض دم توڑ گئے

غزہ کے ہسپتال مشکل ،کٹھن حالات میں کام کر رہے ،طبی سامان، ادویات ،ضروری آلات کی شدید کمی کے باعث مریضوں کی جانیں بچانا دن مشکل ہوتا جا رہا ہے،ڈائریکٹر وزارت صحت

منگل 7 جولائی 2026 21:45

غزہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 جولائی2026ء) غزہ کی وزارت صحت نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی جاری جنگ کے دوران طبی سہولیات اور ادویات کی شدید قلت کے باعث اب تک 1,500سے زائد ایسے مریض انتقال کر چکے ہیں جنہیں علاج کیلئے بیرونِ ملک منتقل کیا جانا ضروری تھا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البرش نے کہا کہ غزہ کے ہسپتال انتہائی مشکل اور کٹھن حالات میں کام کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق طبی سامان، ادویات اور ضروری آلات کی شدید کمی کے باعث مریضوں کی جانیں بچانا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔منیر البرش نے بتایا کہ غزہ سے علاج کے لیے بیرونِ ملک منتقلی کے منتظر ہزاروں مریض بروقت طبی سہولت نہ ملنے کے باعث متاثر ہوئے، جن میں سے 1,500 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ خاص طور پر گردوں کے مریض سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، کیونکہ ضروری ادویات، ڈائلیسز کے آلات اور طبی سامان کی قلت کے باعث گردوں کے 50 فیصد سے زیادہ مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

وزارت صحت کے مطابق غزہ میں طبی بحران مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے جبکہ ہسپتالوں کو درکار بنیادی طبی سامان اور ادویات کی فراہمی تاحال بحال نہیں ہو سکی۔ حکام کے مطابق صحت کے شعبے کو فوری امداد نہ ملی تو مزید قیمتی جانوں کے ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔غزہ کی وزارت صحت نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی امدادی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ طبی سامان، ادویات اور مریضوں کی بیرونِ ملک منتقلی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔