میں نے لکھا تھا جولائی سے اس حکومت کا زوال شروع ہو جائےگا

اگر حکومت سیاسی بیانیہ اور معیشت کو ٹھیک کرلے تو بچ سکتی ہے، ابھی یہ نہیں پتا کہ ان کی جگہ کون آئے گا، تجزیہ کار سہیل وڑائچ کی پوڈکاسٹ میں پیشگوئی

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ منگل 14 جولائی 2026 20:08

میں نے لکھا تھا جولائی سے اس حکومت کا زوال شروع ہو جائےگا
لاہور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 14 جولائی 2026ء ) سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے پیشگوئی کی ہے کہ جولائی سے اس حکومت کا زوال شروع ہو جائے گا، اگر حکومت سیاسی بیانیہ اور معیشت کو ٹھیک کرلے تو بچ سکتی ہے۔ انہوں نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے لکھا تھا جولائی سے اس حکومت کا زوال شروع ہو جائے گا اور اس کی دو وجوہات تھیں ایک وہ کوئی سیاسی بیانیہ نہیں بنا سکتے دوسرا معیشت ترقی کی بجاۓ مزید زوال کا شکار ہوئی ہے۔

اگر حکومت سیاسی بیانیہ اور معیشت کو ٹھیک کرلے تو بچ سکتی ہے، اگر نہیں ٹھیک کریں گے تو چلے جائیں گے۔ ابھی مجھے یہ نہیں پتا ان کی جگہ کون لے گا لیکن جگہ کبھی خالی نہیں رہتی ہمیشہ پُر ہو جاتی ہے، ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے ابھی پتا نہیں کہ کون آئے گا۔

(جاری ہے)

حکومت کی کوئی ناراضگی نہیں ہے، کم ازکم ایسی چیز میرے علم میں نہیں ہے، اگر ہے بھی تو میں نے اس کی بنیاد پر کالم نہیں لکھا۔

میں بار بار لکھا یہ خبر نہیں تجزیہ ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ جنگ آزادی کے زوال کے اسباب، سلطنت مغلیہ کے زوال کے اسباب، اس لئے میں اسباب لکھے ہیں اسباب کا نتیجہ خاتمے میں نکلتا ہوتا ہے۔ کیا اسباب نہیں ہیں؟ اگر حکومت اسباب ٹھیک کرلے گی تو چلتے رہیں گے اگر نہیں تو زوال کا شکا ر ہیں۔ یاد رہے نو جون کو معروف دانشور اور سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے اپنے تازہ ترین کالم میں موجودہ حکومت کی پالیسیوں، معاشی جمود اور سیاسی ویژن کی کمی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے حکومت کو دیوار پر لکھا پڑھنے کی تاکید کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر خود کو فوری طور پر نہ بدلا گیا تو جولائی سے اس حکومت کا زوال شروع ہو جائے گا۔

انہوں نے لکھا کہ بظاہر حکومت اپنے عروج کے نصف النہار پر نظر آ رہی ہے اور مقتدرہ، عدلیہ یا اندرونی لڑائی کا کوئی خطرہ نہیں، لیکن معاشی اور سیاسی محاذ پر لگاتار ناکامیاں اس حکومت کی قبر کھود رہی ہیں، حکومت بظاہر مضبوط ہے مگر جولائی سے اس کا زوال کی طرف سفر شروع ہو جائے گا، یہ خبر نہیں بلکہ ایک مروجہ تجزیہ ہے جس کی بنیادیں معاشی اور سیاسی حقائق پر کھڑی ہیں۔