وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی سے ڈبلیو ایف پی کی کنٹری ڈائریکٹر کی ملاقات، باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چشمہ رائٹ بینک کینال کی عدم فنڈنگ، ضم اضلاع کے بے گھر خاندانوں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال

پیر 20 جولائی 2026 22:55

|پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 جولائی2026ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی سے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کی پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش نے خیبرپختونخوا ہاوس، اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، تعاون اور شراکت داری کے فروغ سے متعلق معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے خیبرپختونخوا حکومت اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے درمیان شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے اور ترجیحی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

ملاقات کے دوران خیبرپختونخوا میں فوڈ سیکیورٹی، موسمیاتی تبدیلی، سٹنٹنگ اور بے گھر افراد (آئی ڈی پیز) کی معاونت سے متعلق امور پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں لاکھوں ایکڑ اراضی کو قابلِ کاشت بنانے، زرعی پیداوار بڑھانے اور فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے چشمہ رائٹ بینک لفٹ کینال منصوبہ ناگزیر ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ہر سال سالانہ ترقیاتی پروگرام میں اس منصوبے کے لیے فنڈز مختص کرتی ہے، مگر وفاق کی جانب سے منصوبے کے لیے مختص حصہ تاحال فراہم نہیں کیا جا رہا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ فوڈ سیکیورٹی کے فروغ کے لیے آبپاشی نہروں، ٹیوب ویلز اور دیگر زرعی منصوبوں پر خطیر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے وڑن کے تحت شجرکاری اور جنگلات کے تحفظ پر بھرپور سرمایہ کاری کی گئی، جس کے نتیجے میں خیبرپختونخوا پاکستان کے 45 فیصد سے زائد جنگلات کا حامل صوبہ ہے، جبکہ صوبے کے 26 فیصد رقبے پر جنگلات موجود ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پہاڑی علاقوں میں فلیش فلڈز اور کلاوڈ برسٹ کے واقعات معیشت اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بونیر، شانگلہ، سوات اور باجوڑ کے سیلاب متاثرین کو 15 ارب روپے سے زائد معاوضہ ادا کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گرین کلائمیٹ اقدامات اور ارلی وارننگ سسٹمز میں سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشتگردی سے ضم اضلاع شدید متاثر ہوئے ہیں، جہاں انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ معیشت کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پار تجارت پر انحصار کرنے والے ضم اضلاع بارڈر بندش سے شدید متاثر ہیں۔ تیراہ سے 24 ہزار خاندان بے گھر ہوئے، جبکہ روزگار، صحت اور تعلیم تک رسائی اب بھی بڑے چیلنجز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ضم اضلاع کے ٹی ڈی پیز کے لیے 17 ارب روپے فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، جو تاحال پورا نہیں ہوا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی معاونت نہ ملنے کے باوجود صوبائی حکومت گھروں سے بے دخل ہونے والے افراد کی امداد اور ان کی ضروریات کی فراہمی پر خطیر وسائل خرچ کر رہی ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش نے اس موقع پر کہا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مل کر فوڈ سیکیورٹی، غذائیت اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گا