سوات سانحہ: پہاڑوں اور پانی سے محبت کرنے والی بشری کا 21 دن بعد بھی سراغ نہ مل سکا، ضلعی انتظامیہ جواب دینے سے گریزاں

خاندان نے سوات جانے کا پروگرام بشری کے اصرار پر بنایا گیا تھا‘اسے پہاڑوں اور پانی سے غیرمعمولی لگاﺅتھا‘ پاکستان آنے سے قبل اس نے والد اور بہنوں سے کہا اس بار ہم ضرور سوات جائیں گے. ذیشان ہندل کی گفتگو

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل 21 جولائی 2026 17:20

سوات سانحہ: پہاڑوں اور پانی سے محبت کرنے والی بشری کا 21 دن بعد بھی سراغ ..
لاہور/سوات(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔21 جولائی ۔2026 ) سوات کی ضلعی انتظامیہ اور دیگر ادارے 21دن گزرنے کے باوجود کالام کی سیف اللہ جھیل کے حادثے میں لاپتہ خاتون بشری سموئی کا پتہ لگانے میں ناکام ہیں بدقسمت خاندان کے سربراہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر ہندل کے بھتیجے ذیشان ہندل کا کہنا ہے کہ ہماری امید ختم ہورہی ہے‘ہمیں لگ رہا تھابشری زندہ بچ گئی ہوگئی اور اسے بروقت تلاش کرلیا جائے گا مگر21دن گزرنے کے باوجود ابھی تک حکام اس کا پتہ لگانے میں ناکام ہیں.

(جاری ہے)

ذیشان ہندل نے بتایا کہ حادثے کے وقت وہ بھی اپنے خاندان کے ہمراہ کالام میں موجود تھے انہیں پاکستان نیوی کی جانب سے حادثے کی اطلاع دی گئی تھی جس کے بعد وہ فوراً کالام ہسپتال پہنچے جہاں خاندان کے چھ افراد کی لاشیں وہاں موجود تھیں، جن میں میرے چچا کی بیٹی کے دو کم عمر بچوں کی لاشیں بھی شامل تھیں. انہوں نے بتایا کہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر ہندل اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے پانی میں ڈوب گئے تھے، حالانکہ ان کی پوری زندگی سمندر سے وابستہ رہی تھی اور وہ ایک ماہر تیراک تھے کشتی الٹنے سے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر ہندل کے علاوہ ان کی شادی شدہ بیٹی فروا، ان کے دو کم عمر بچے، راویل ہندل اور عبداللہ بھی جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ان کی تیسری بیٹی بشری امریکہ سے چھٹیاں گزارنے آئی تھیں جوتاحال لاپتہ ہیں ذیشان ہندل کے مطابق یہ ٹور بھی بشری کے اصرار پر بنایا گیا تھا.

انہوں نے بتایا کہ بشری ہندل کو پہاڑوں اور پانی سے غیرمعمولی لگاﺅتھا جب وہ امریکہ سے پاکستان آنے لگی تھیں تو انہوں نے اپنے والد اور بہنوں سے کہا تھا کہ اس بار ہم ضرور سوات جائیں گے. ادھر حکام کا کہنا ہے کہ سیف اللہ جھیل سے دریائے ایشومیں بحرین تک تقریبا80کلومیٹرسے زیادہ علاقے میں سرچ آپریشن کیا جارہا ہے جبکہ عینی شاہدین کے مطابق بروقت انجن اسٹارٹ نہ ہونے کی وجہ سے کشتی پانی کے تیزبہاﺅکی وجہ سے جلد ہی اس مقام تک پہنچ گئی تھی جہاں جھیل کا پانی دریائے ایشو میں گرتا ہے ان کا کہنا ہے اس مقام پر پانی کا بہاﺅ بہت تیز ہوتا ہے جہاں کشتی ڈوبی اور یہ سب ایک منٹ سے بھی کم وقت میں ہوا.

رابط کرنے پر ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام تسلی بخش جواب نہیں دے سکا مقامی صحافیوں کے مطابق ڈپٹی کمشنر آفس یا یوایس اے ڈی حکام سے رابط کرنے پر ایک ہی جواب ملتا ہے کہ سرچ آپریشن جاری ہے.