پاکستان کی معیشت اب بھی بیرونی عوامل پر انحصار کر رہی ہی: خادم حسین

منگل 21 جولائی 2026 23:08

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 21 جولائی2026ء) فائونڈر ز گروپ کے سرگرم رکن ،پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن ، سینئر نائب صدر فیروز پور روڈ بورڈاورسابق ممبر لاہور چیمبر آف کامرس خادم حسین نے کہا ہے کہ بظاہر معاشی اشاریے بہتری کی تصویر پیش کر رہے ہیں لیکن اصل صورتحال اتنی اطمینان بخش نہیں جتنی دکھائی دے رہی ہے،برآمدات، سرمایہ کاری اور پیداواری شعبے میں خاطر خواہ پیشرفت نہ ہونے کے باعث پاکستان کی معیشت اب بھی بیرونی عوامل پر انحصار کر رہی ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطی کی کشیدہ صورتحال، تیل کی بڑھتی قیمتیں یا ترسیلاتِ زر میں معمولی کمی بھی موجودہ معاشی توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔مالی سال 2026 میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ صرف 139ملین ڈالر جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر 18․4ارب ڈالر تک پہنچ گئے تاہم یہ بہتری برآمدات کے بجائے بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر کی بدولت ممکن ہوئی۔

(جاری ہے)

ملک کا تجارتی خسارہ اب بھی بلند سطح پر ہے جبکہ برآمدات، غیر ملکی سرمایہ کاری اور صنعتی مسابقت میں نمایاں بہتری نہیں آ سکی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مشرقِ وسطی میں کشیدگی بڑھی، تیل مہنگا ہوا یا خلیجی ممالک سے ترسیلاتِ زر میں کمی آئی تو پاکستان کو دوبارہ ادائیگیوں کے توازن کے دبا ئوکا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ عارضی معاشی استحکام پر انحصار کرنے کے بجائے برآمدات، سرمایہ کاری اور پیداواری شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے فوری اصلاحات کی جائیں تاکہ مالی سال 2027 میں پائیدار معاشی ترقی یقینی بنائی جا سکے۔