جمعیت علماء اسلام کے خلاف گزشتہ کچھ عرصے سے منظم انداز میں منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے،مولانا عبدالرحمن رفیق

جمعرات 30 جولائی 2026 19:40

;کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 30 جولائی2026ء) جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، سیکرٹری اطلاعات عبدالغنی شہزاد، عبدالصمد حقیار، مفتی محمد ابوبکر، عبدالباری شہزاد، مولانا جمال الدین حقانی، مفتی رشید احمد حقانی اور حاجی عطاء محمد شمشوزئی نے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام کے خلاف گزشتہ کچھ عرصے سے منظم انداز میں منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، تاہم باشعور عوام نے ایسے تمام بے بنیاد اور گمراہ کن ہتھکنڈوں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ایک نظریاتی، عوامی اور جمہوری جماعت ہے جس نے ہر دور میں آئین کی بالادستی، جمہوریت کے استحکام، پارلیمنٹ کی خودمختاری، دینی اقدار کے تحفظ اور عوام کے بنیادی حقوق کے لیے اصولی اور بے لوث جدوجہد کی ہے۔

(جاری ہے)

جمعیت شہداء کی امین جماعت ہے، جس کے ہزاروں کارکنان اور قائدین نے وطن عزیز میں امن، مذہبی آزادی، جمہوری نظام اور قومی یکجہتی کے لیے لازوال قربانیاں پیش کی ہیں، جنہیں تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔

رہنماؤں نے کہا کہ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی، پارلیمانی، آئینی اور قومی خدمات ایک روشن حقیقت ہیں، جن کا اعتراف نہ صرف ملک کے سنجیدہ سیاسی حلقے کرتے ہیں بلکہ عوام بھی ان کی بصیرت، تدبر اور اصولی سیاست پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں، اور پاکستان کی موجودہ سیاست میں کوئی بھی شخصیت ان کی طویل، مؤثر اور بے مثال خدمات کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے ہمیشہ قومی مفاد، جمہوری روایات، اسلامی اقدار اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے آواز بلند کی ہے اور ہر قسم کے دباؤ، لالچ اور سیاسی انتقام کے باوجود اپنے اصولی مؤقف پر ثابت قدم رہے ہیں۔ رہنماؤں نے مزید کہا کہ مخالفین اپنی سیاسی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے جمعیت علماء اسلام اور اس کی قیادت کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں، لیکن عوام اب حقیقت اور پروپیگنڈے میں فرق بخوبی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کارکنان سے اپیل کی کہ وہ صبر، تحمل اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے جماعت کا مثبت پیغام گھر گھر پہنچائیں، عوام سے رابطہ مضبوط کریں اور ملک میں آئین، قانون، جمہوریت، امن اور عوامی حقوق کی جدوجہد کو مزید مؤثر انداز میں جاری رکھیں۔