انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ، صوبوں کی تقسیم کو غداری قرار دینا ناقابل قبول ہے، خالد مقبول صدیقی

پاکستان ناقابل تقسیم ہے، آبادی کے تناسب سے نئے انتظامی یونٹس آئینی ضرورت ہیں، جشنِ آزادی یونین کونسل سطح تک منائیں گے،پریس کانفرنس

ہفتہ 1 اگست 2026 19:00

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 اگست2026ء) چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ صوبوں کی تقسیم کو غداری قرار دینے والا خود قومی مفاد کے خلاف بات کر رہا ہے، پاکستان ناقابل تقسیم وطن ہے جبکہ آبادی کے تناسب سے نئے انتظامی یونٹس کا قیام آئینی اور انتظامی ضرورت بن چکا ہے۔کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے ہمیشہ انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس کے قیام کی بات کی ہے، نہ کہ لسانی یا نسلی تقسیم کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دھرتی ماں ہے اور چاروں صوبے اس کا حصہ ہیں، کسی کو بھی سندھو دیش بنانے کی اجازت نہیں دیں گے، ہم پاکستان کو مضبوط اور مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی تاجر برادری بھی آج انہی نکات کی تائید کر رہی ہے جنہیں ایم کیو ایم پاکستان برسوں سے اٹھاتی آ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ون یونٹ کے خاتمے کے بعد صوبائی ڈھانچہ مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا، اس لیے بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی ضروریات کے مطابق نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جانے چاہئیں۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ موجودہ آئینی طریقہ کار میں اصلاحات کی ضرورت ہے، اسی مقصد کے لیے ایم کیو ایم پاکستان قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم بھی پیش کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجودہ صوبے لسانی بنیادوں پر قائم ہیں جبکہ وقت کا تقاضا ہے کہ انتظامی سہولت اور عوامی خدمت کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے انتظامی یونٹس تشکیل دیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت خطے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور علاقائی امن کے قیام میں اس کی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ پوری مسلم دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں، ایسے میں ملک کو مضبوط اور مؤثر انتظامی نظام کی ضرورت ہے۔چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ ماہِ آزادی کے موقع پر جماعت بھرپور انداز میں تقریبات کا انعقاد کرے گی۔

یونین کونسل کی سطح تک جشنِ آزادی منایا جائے گا، تمام تنظیمی دفاتر پر قومی پرچم لہرایا جائے گا جبکہ سیمینارز، مشاعرے، ریلیوں اور دیگر تقریبات کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کو حکومت یا ایوانوں کی ضرورت نہیں بلکہ حکومتوں کو ایم کیو ایم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پاکستان میں آبادی کے تناسب سے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں تاکہ عوام کو بہتر طرزِ حکمرانی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔