سکھ تنظیموں کا بھارتی حکومت سے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت فوری بحال کرنے کا مطالبہ

منگل 4 اگست 2026 18:37

جموں (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 04 اگست2026ء) بھارت کےغیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیرکی مختلف سکھ تنظیموں نے جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنے وعدے پورے کرے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ مطالبہ جموں میں بھائی کنہیا نشکام سیوا سوسائٹی کے سربراہ موہندر سنگھ کی زیر صدارت منعقدہ سکھ رہنمائوں کے اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس کے شرکا نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کے بارے میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہ ہونے پرشدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ متعدد اعلانات کے باوجود اب تک اس سلسلے میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

سکھ رہنمائوں نے کہا کہ اگرچہ 2024کے اسمبلی انتخابات کے بعد مقبوضہ علاقے میں ایک منتخب حکومت قائم ہوچکی ہے، تاہم جموں وکشمیر کی زمینی صورتحال میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی اور بے روزگاری میں مسلسل اضافہ اور عوامی خدمات کی فراہمی میں تاخیر نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔انہوں نے وزیر اعلی عمر عبداللہ کی حکومت اور نئی دہلی کے تعینات کردہ لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ کے درمیان اختیارات کی کشمکش پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازع کا براہ راست خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔اجلاس کے شرکا نے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت بلا تاخیر بحال اور عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے تاکہ مقبوضہ علاقے میں غیر یقینی سیاسی اور انتظامی صورتحال کا خاتمہ ہو سکے۔