کشمیریوں کو کالے قوانین کے ذریعے خاموش کرانے کا بھارتی سلسلہ جاری، کشمیری سیاسی نظر بندوں کو جرائم پیشہ قیدیوں کے ساتھ رکھنا عالمی قوانین کی خلا ف ورزی ہے ، مقررین

جمعرات 6 اگست 2026 18:24

سری نگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 اگست2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سیاسی رہنمائوں، سول سوسائٹی ارکان اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے کہا ہے کہ علاقے میں پابندیوں ،غیر قانونی گرفتاریوں اور کالے قوانین کے ذریعے سیاسی رہنمائوں ، صحافیوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو خاموش کرانے کا بے دریغ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق انہوں نے سرینگر میں اپنے بیانات میں کہا ہے کہ 5 اگست 2019 کو370اور 35اے دفعات کی منسوخی اور مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے غیر قانونی بھارتی اقدام کو سات برس مکمل ہو گئے لیکن کشمیری بدستور مشکلات کا شکار ہیں اور بھارتی فورسز کی چیرہ دستیوں نے انکی زندگی جہنم بنادی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے علاقے میں اظہار رائے کی آزادی اورپرامن اجتماع کے حق پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے ،انتظامیہ نے گزشتہ روز اگست 2019کے غیر قانونی اقدام کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا اور صحافیوں کو احتجاج کی کوریج سے روک دیا۔

(جاری ہے)

سیاسی رہنمائوں ،سول سوسائٹی کے کارکنوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں جاری مسلسل جبر ، مواصلاتی پابندیوں ، اظہار رائے کی آزادی پر قدغن جیسے اقدامات نے جمہوری ملک ہونے کے نام نہاد بھارتی دعوئوں کی قلعی کھول دی ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی رکھے گئے ہیں ۔بھارتی وزارت داخلہ نے پارلیمنٹ کے ایوان بالا ”راجیہ سبھا“کو مطلع کیا کہ جیلوںمیں کل3ہزار6سو 29قید ی رکھنے کی گنجائش ہے جبکہ ان میں 5ہزار 3سو 83قیدی موجود ہیں ۔

بھارت نے حریت رہنماﺅں اور کارکنوں سمیت بڑی تعداد میں بیگناہ کشمیری نوجوان بھی جرائم پیشہ قیدیوں کے ساتھ جیلوں میں بند کر رکھے ہیں جو سیاسی قیدیوں کے حوالے سے عالمی قوانیں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 5 اگست 2019کے بھارتی اقدامات نے مقبوضہ جموں وکشمیر سے اس کے آئینی تحفظات، سیاسی شناخت اور ریاست کا درجہ چھین لیا۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے کے لوگوں نے بی جے پی حکومت کے یکطرفہ اقدامات کی مسلسل مخالفت کی ہے اور وہ اپنے آئینی حقوق اور ریاستی حیثیت کی بحالی کے اپنے مطالبے پر ثابت قدم ہیں۔ضلع پونچھ میں کنٹرول لائن کے قریب ایک بارودی سرنگ کے ناکارہ بنانے کی کارروائی کے دوران 2 بھارتی فوجی زخمی ہوگئے ۔ حفاظتی انتظامات کے فقدان اور ناقص عسکری تربیت کی وجہ سے بھارتی فوجی اس قسم کے مہلک حادثات کا اکثر شکار ہوتے رہتے ہیں۔

نئی دلی میں منعقدہ ایک مباحثے کے شرکاءنے کہا ہے کہ 5اگست 2019کو دفعہ 370کی منسوخی اور جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا فیصلہ کشمیریوں کی مرضی کے بغیر کیا گیا ہے جس سے انکے اعتماد کو سخت ٹھیس پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برے فیصلوں کی وجہ سے جموں وکشمیر کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے لہذا خطے میں امن ، اعتماد او رکشمیریوں کے وقار کی بحالی کیلئے بات چیت ضروری ہے۔

”بات چیت، وقار اور جمہوری مستقبل “ کے عنوان سے مباحثے کا اہتمام سرینگر حلقے سے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن آغا روح اللہ مہدی نے کیا تھا ۔ مقررین میں بھارتی پارلیمنٹ کے رکن پروفیسر منوج جھا، سابق مصالحت کار رادھا کمار، سابق چیف انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ، سابق ”را“سربراہ اے ایس دولت اور دیگر شامل تھے۔