سعودیوں کو سمجھنا چاہیے کہ ترکی اور پاکستان کے ساتھ کاغذی معاہدہ انہیں سکیورٹی فراہم نہیں کرےگا

اپنی پالیسیاں تبدیل کریں تاکہ آپ کو سکیورٹی کی بھیک نہ مانگنی پڑے۔ رکن ایرانی سلامتی کمیٹی ابراہیم رضائی کا ردعمل

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 7 اگست 2026 20:54

سعودیوں کو سمجھنا چاہیے کہ ترکی اور پاکستان کے ساتھ کاغذی معاہدہ انہیں ..
تہران ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 07 اگست 2026ء ) ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی اینڈ فارن پالیسی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی نے خبردار کیا ہے کہ سعودیوں کو جان لینا چاہیے کہ ترکی اور پاکستان کے ساتھ کاغذی دفاعی معاہدہ انہیں سکیورٹی فراہم نہیں کرےگا۔ ایکس پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ دفاعی معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودیوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ترکی اور پاکستان کے ساتھ محض کاغذی معاہدہ انہیں سکیورٹی فراہم نہیں کرے گا، جس طرح برسوں تک امریکا کی یکطرفہ خوشامد اور حمایت بھی انہیں سکیورٹی نہیں دے سکی۔

اپنی پالیسیاں تبدیل کریں تاکہ آپ کو دوسروں سے سکیورٹی کی بھیک نہ مانگنی پڑے۔

(جاری ہے)

یاد رہے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے مکہ مکرمہ میں ایک تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر ہونے والا مسلح حملہ تینوں ریاستوں پر حملہ تصور کیا جائے گا مبصرین کے مطابق یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر خطے میں دفاعی تعاون اور اسٹریٹجک توازن کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے. مشترکہ اعلامیے کے مطابق اس معاہدے کا بنیادی مقصد ہر قسم کی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت اور بازدار قوت کو مضبوط بنانا ہے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان، سعودی عرب یا ترکی میں سے کسی ایک ریاست پر مسلح حملہ کیا جاتا ہے تو اسے تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ معاہدہ دفاعی تعاون کو تمام شعبوں میں فروغ دینے کی بھی راہ ہموار کرے گا. ادھر عالمی خبررساں ادارے”رائٹرز“نے انقرہ میں موجود ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے کہاہے کہ یہ معاہدہ خطے میں طاقت کے توازن کو نمایاں طور پر تبدیل کر سکتا ہے اگر اس پر موثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو اس سے مشرقِ وسطیٰ اور اردگرد کے خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کو مزید تقویت ملے گی۔