ًقائداعظم کا فرمان سچ ثابت بھارتی مسلمانوں کو وفاداری ثابت کرنے پر مجبور کیا جانے لگا

ہفتہ 8 اگست 2026 23:11

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 08 اگست2026ء) بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ امتیازی سلوک، نفرت انگیزی اور ریاستی دباؤ کے واقعات نے ایک بار پھر اقلیتوں کے تحفظ اور مذہبی آزادی سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں۔ بھارتی جریدے ’نیشنل ہیرالڈ‘ کے مطابق مسلمان شہریوں، بالخصوص طلبہ، کو احتجاجی سرگرمیوں کے دوران مبینہ طور پر مذہبی شناخت کی بنیاد پر ہراسانی اور تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مسلمان طالبہ فرح ناز نے الزام عائد کیا کہ جنتر منتر پر احتجاج کے دوران بھارتی پولیس نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور مسلمان ہونے کی وجہ سے کئی گھنٹے پولیس کی گاڑی میں بٹھائے رکھا۔فرح ناز کے مطابق پولیس اہلکاروں نے انہیں مبینہ طور پر کہا کہ ان کی اور دیگر مسلمان مظاہرین کی الگ فہرست بنائی جائے گی کیونکہ وہ ’’غدار‘‘ ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سوشل میڈیا پر مسلمان مظاہرین کو غدار قرار دے کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ نفرت انگیزی اور امتیازی سلوک کے واقعات پر انسانی حقوق سے متعلق حلقوں کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ہندوتوا پر مبنی سیاست کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث بھارت میں مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کو سماجی، سیاسی اور تعلیمی سطح پر مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ تشدد، مساجد کو نقصان پہنچانے اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر نفرت کا نشانہ بنانے کے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق برصغیر کی تقسیم سے قبل قائداعظم محمد علی جناح کی جانب سے برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی و مذہبی حقوق کے حوالے سے پیش کیے گئے خدشات کو بھارت میں مسلمانوں کو درپیش موجودہ صورتحال کے تناظر میں دوبارہ زیرِ بحث لایا جا رہا ہے۔بھارتی مسلمانوں کے حوالے سے سامنے آنے والے یہ واقعات بھارت میں مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق اور قانون کی یکساں عمل داری سے متعلق سنجیدہ سوالات کو اجاگر کرتے ہیں۔