سینیٹر پلوشہ خان کا آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور پولنگ کے عمل میں رکاوٹوں پر شدید تشویش کا اظہار

پیر 10 اگست 2026 21:47

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 10 اگست2026ء) پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور پولنگ کے عمل میں رکاوٹوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے فوری نوٹس لینے اور آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن سہولت کاری چھوڑے اور اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے آزاد، منصفانہ اور صاف شفاف انتخابات کو یقینی بنائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی پہلے دن سے الیکشن کمیشن میں شکایات جمع کروا رہی ہے، مگر افسوس کہ الیکشن کمیشن کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمشنر کو سوچنا چاہیے کہ کشمیر کے انتخابات انتہائی حساس ہیں، اس لیے الیکشن کمیشن کو انتخابات کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ہر صورت شفافیت یقینی بنانا ہوگی۔

(جاری ہے)

پلوشہ خان نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بار بار نشاندہی کر رہے ہیں کہ کشمیر کے انتخابات انتہائی حساس ہیں اور ان میں شفافیت ہر صورت یقینی بنائی جائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جب بات ہاتھوں سے نکل جائے گی اور سر دیوار سے جا لگے گا تو پھر بلاول بھٹو زرداری کی باتیں یاد آئیں گی۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو اپنا حقِ رائے دہی آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا پورا حق دیا جائے اور انہیں اپنی مرضی کے امیدوار کو ووٹ دینے سے نہ روکا جائے۔سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ حلقہ LA-15 باغ وسطی میں صبح سے ہی مبینہ دھاندلی کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جن کا الیکشن کمیشن فوری نوٹس لے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حلقہ LA-16 باغ شرقی کے پولنگ اسٹیشنز نمبر 109، 110، 111 اور 112 پر تاحال پولنگ شروع نہیں ہونے دی جا رہی۔انہوں نے کہا کہ LA-15 اور LA-16 میں پولنگ کے عمل میں رکاوٹیں ناقابلِ قبول ہیں اور الیکشن کمیشن فوری کارروائی کرے۔ سینیٹر پلوشہ خان نے واضح کیا کہ ہم کسی صورت کشمیری عوام کے حقِ رائے دہی پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔