انگلینڈ کا تین چوتھائی حصہ خشک سالی کا شکار ہو گیا ، حکومت برطانیہ

منگل 11 اگست 2026 16:11

انگلینڈ کا تین چوتھائی حصہ خشک سالی کا شکار ہو گیا ، حکومت برطانیہ
لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 اگست2026ء) برطانوی حکومت نےانگلینڈ میں جاری خشک سالی کے بارے میں کہا ہے کہ انگلینڈ کا تقریباتین چوتھائی حصہ خشک سالی کا شکار ہو چکا ہے۔ چنانچہ زراعت ما حولیات، جنگلی حیات اور فراہمی آب کے سلسلے میں مشکلات درپیش ہو گئی ہیں۔العربیہ کے مطابق انگلینڈ کا 71.3 فیصد حصہ خشک سالی سے دوچار ہے۔ بارشوں کے کم ہونے کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافہ ہو گیا ہے۔

گرمی کا یہ سلسلہ جولائی کے اواخر سے جاری ہے۔ جہاں ملک کے نصف حصے کو خشک سالی کا شکار ہو جانے کی اطلاع دی گئی تھی۔بتایا گیا ہے کہ تقریبا ساڑھے چار کروڑ افراد خشک سالی والے علاقے میں ہیں جبکہ 2 کروڑ 70 لاکھ شہریوں کو پانی استعمال کرنے میں مختلف پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

(جاری ہے)

خیال رہے رواں سال کے دوران برطانیہ گرمی کی پانچویں لہر کی زد میں ہےجبکہ انگلینڈ اور ویلز گزشتہ سال میں ماہ جولائی کے دوران 190 سال کی سب سے بری خشک سالی کا نشانہ بنے ہیں۔

انگلینڈ کے جنوب مشرقی حصے میں معمول کی اوسط سے بارشوں کا صرف ایک فیصد ممکن ہوا ہے۔وزیر آب ایما ہارڈی نے کہا ہم جانتے ہیں موسم گرما کس قدر چیلنجنگ ہو گا۔ تاہم کسانوں کی مدد کے لیے ہم ہر ممکن اقدامات کرنے کی کوشش میں ہیں تاکہ آبپاشی ہو سکے اور فصلوں کی کاشت کے لیے پانی دستیاب ہو جائے۔حکومتی بیان میں کہا گیا ہے زیر زمین پانی کے ذخیرے میں کمی ہوجانے سے واٹر لیول نیچے چلا گیا ہے۔

یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ سرما اور گرما کے موسموں کے متاثر ہونے کی وجہ سے جنگلوں میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ایک اندازے کے مطابق رواں سال کے دوران برطانیہ میں گرمی کی لہر کی وجہ سے 2877 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان اعدادو شمار کی برطانوی محکمہ صحت کے حکام نے گزشتہ ماہ تصدیق کی ہے۔ موسمی شدت کی وجہ سے جانوروں اور پرندوں کی زندگی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔