جموں و کشمیر، بھارتی یوم آزادی سے قبل پابندیوں میں تیزی، فورسز اہلکاروں کی تعیناتی میں اضافہ

جمعرات 13 اگست 2026 15:41

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 اگست2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر میں بھارتی انتظامیہ نے 15اگست کو بھارتی یوم آزادی سے قبل پابندیوں میں تیزی لا تے ہوئے فورسز کی تعیناتی میں اضافہ کر دیا ہے ۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سری نگر اور وادی کشمیر کے دیگر قصبوں میں حساس مقامات پر بڑی تعداد میں بھارتی فوجی ، پیرا ملٹری اور پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

فورسز نے اہم شاہروں پر اضافی چیک پوسٹیں قائم اور مزید ناکے لگائے ہیں جہاں گاڑیوں ، مسافروں اور راہگیروں کی سخت تلاشی لی جارہی ہے۔ سرینگر کے بخشی سٹیڈیم جہاں بھارتی یوم آزادی کی نام نہاد مرکزی تقریب ہوگی ، کو مکمل طورپر اپنے حصار میں لے رکھا ہے ، سٹیڈیم کی ڈرون کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے ۔

(جاری ہے)

اونچی عمارتوں پر ماہر نشانہ باز اہلکار،سٹیڈیم کے ارد گرد اور سرینگر کے دیگر حساس مقامات پر سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

بڑے پیمانے پر فورسز اہلکاروں کی تعیناتی اور سخت پابندیوں کا نفاذ آزادی پسند کشمیریوں کو ڈرانے دھمکانے کی بھارتی پالیسی کا حصہ ہے۔ بھارت نے جموں وکشمیر پر فوجی طاقت کے بل پر قبضہ جما رکھا ہے اور کشمیری اس کے تسلط سے آزادی کےلئے بیش بہا قربانیاں دے رہے ہیں ۔ کشمیری ہر سال بھارتی یوم آزادی کو ''یوم سیاہ '' کے طور پر منا کر غاصب ملک کو یہ واضح پیغام دیتے ہیں کہ وہ اس کے جابرانہ تسلط کے خاتمے تک ہرگز چین سے نہیں بیٹھیں گے اپنی جدوجہد آزادی کو ہرقیمت پر اسکے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔