ولیکا اسپتال میں بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے کا حکم

جمعرات 13 اگست 2026 16:01

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 اگست2026ء) سندھ ہائیکورٹ نے ولیکا اسپتال میں زیر علاج بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے کے معاملے کی تحقیقات کے لیے چیف سیکریٹری سندھ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کردی۔عدالت نے قرار دیا کہ کمیٹی میں گریڈ 20 کے دو ایسے افسران کو بھی شامل کیا جائے جن کا اسپتال یا معاملے کی تفتیش سے براہ راست انتظامی تعلق نہ ہو۔

جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ محض انتظامی نوعیت کا نہیں بلکہ انسانی زندگی اور عوامی صحت سے متعلق ذمہ داریوں کا معاملہ ہے۔عدالت نے کمیٹی کو ولیکا اسپتال میں زیر علاج مریضوں کی مکمل تفصیلات اور ایچ آئی وی کی منتقلی سے متعلق شواہد کا جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھی تحقیقات کی جائیں کہ آیا ڈسپوزایبل سرنجز یا دیگر طبی سامان دوبارہ استعمال تو نہیں کیا گیا۔

(جاری ہے)

تحقیقاتی کمیٹی اسپتال میں آٹو لاک سرنجز کی خریداری، اسٹوریج اور استعمال کے ریکارڈ کا جائزہ لے گی جبکہ طبی، نرسنگ، ٹیکنیکل اور انتظامی افسران کے کردار اور ذمہ داری کا بھی تعین کرے گی۔عدالت نے کمیٹی کو ڈسپوزایبل سرنجز ایکٹ اور دیگر متعلقہ قوانین کی ممکنہ خلاف ورزیوں کا جائزہ لینے اور ذمہ دار افراد کا تعین کرنے کی ہدایت بھی کی۔

کمیٹی کو متعلقہ ریکارڈ، رپورٹس اور سی سی ٹی وی فوٹیج تک رسائی حاصل ہوگی اور اسے دو ماہ کے اندر اپنی تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کرنا ہوگی۔عدالت نے قرار دیا کہ شواہد کی بنیاد پر کسی فرد کی ذمہ داری ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف محکمانہ یا فوجداری کارروائی کی سفارش کی جائے۔سندھ ہائیکورٹ نے چیف سیکریٹری سندھ کو تمام متاثرہ بچوں کو بلا تعطل اور مناسب طبی علاج فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ادویات اور ٹیسٹ سمیت تمام طبی اخراجات حکومت سندھ یا سوشل سیکیورٹی ادارہ برداشت کرے گا۔

عدالت نے متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کے لیے قانون کے مطابق معاوضے یا ریلیف کا تعین کرنے، متاثرین کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی سلوک نہ کرنے اور بچوں کی شناخت و طبی معلومات کو قانون کے مطابق محفوظ رکھنے کی بھی ہدایت کی۔چیف سیکریٹری سندھ اور سیکریٹری صحت کو ڈسپوزایبل سرنجز ایکٹ سمیت دیگر متعلقہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم بھی دیا گیا۔

سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزار کے وکیل طارق منصور کے طرز عمل پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت کے مطابق وکیل نے کمرہ عدالت میں اپنے ساتھ آنے والے افراد کو اکسایا اور عدالتی کارروائی کے دوران ویڈیوز بنوانے کی اجازت دی، جس سے کارروائی میں خلل پیدا ہوا۔عدالت نے قرار دیا کہ صورتحال کے باعث ججز کو عدالتی کارروائی مکمل کرنے کے لیے چیمبر میں جانا پڑا، ایسا عمل بادی النظر میں توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔

عدالت نے وکیل درخواست گزار کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے توہین عدالت کی کارروائی میں تحریری جواب جمع کرانے اور ذاتی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔سندھ ہائیکورٹ نے سندھ ہائیکورٹ بار اور سندھ بار کونسل کو درخواست گزار وکیل کے طرز عمل پر مناسب قانونی اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی۔ رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کو کمرہ عدالت اور عدالت کے باہر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج فوری طور پر محفوظ کرنے کا حکم دیا گیا جبکہ سیکیورٹی انچارج اور متعلقہ پولیس افسران سے ناخوشگوار واقعے پر وضاحت بھی طلب کرلی گئی۔