بھارت :ہندو انتہاپسند نے دہلی کی سڑک پر مسلماں خاندان کو ہراساں کیا

منگل 18 اگست 2026 21:50

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 اگست2026ء) بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک ہندو انتہاپسند نے مسلمان خاندان کو سڑک پر ہراساں کیا اور ان کی ویڈیو بنائی۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ہندو انتہاپسندنے بھارت میں مسلمانوں کی موجودگی کوبے روزگاری کی وجہ قراردیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا،یہ واقعہ اتوار 16 اگست کی شام کو پیش آیا۔

ہندو انتہا پسند نے جس کی شناخت سواتنتر بھاردواج کے نام سے ہوئی ہے، ایک سکوٹر پرسوار مسلمان میاں بیوی اوران کے تین بچوں کا پیچھا کیا۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ الفاظ استعمال کرتے ہوئے انہیں ملائوں کا خاندان قرار دے رہا ہے اور خاتون کے حاملہ ہونے کا مذاق اڑارہاہے۔بھاردواج نے خاندان کو بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ سمجھو بیروزگاری کیوں بڑھ رہی ہے۔

(جاری ہے)

وہ ہیلمٹ کی خلاف ورزی اور سکوٹر کے رجسٹریشن نمبر کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی پولیس اور ٹریفک حکام کو ٹیگ کرنے کی اپیل کررہاہے۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بھاردواج نے مسلمانوں کو نشانہ بنایا ہو۔ وہ ایک نام نہاد” گائو رکھشک گروپ“ سے وابستہ ہے اور اس سے قبل طلبہ کے احتجاج کے دوران اس نے ایک دن کے لیے پولیس افسر بنائے جانے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ اپنی غنڈہ گردی دکھا سکے ۔