ٴْافغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر عالمی تشویش برقرار، فرانس کی طالبان پر کڑی تنقید

بدھ 19 اگست 2026 18:25

uپیرس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 19 اگست2026ء) افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے پانچ سال مکمل ہونے پر انسانی حقوق کی صورتحال، خواتین پر عائد پابندیوں اور سکیورٹی کے حالات پر عالمی تشویش بدستور برقرار ہے۔ فرانس نے افغان طالبان کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان اس وقت گہرے انسانی، معاشی اور سکیورٹی بحران سے دوچار ہے، جبکہ موجودہ صورتحال خطے کے استحکام کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔

فرانسیسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق طالبان کے دور حکومت میں افغانستان میں حالات مسلسل بگڑ رہے ہیں۔ بیان میں خواتین کو عوامی زندگی سے دور رکھنے کے لیے مزید امتیازی قوانین متعارف کرائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔فرانس نے افغان طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بین الاقوامی وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کریں، انسانی حقوق کا احترام یقینی بنائیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

(جاری ہے)

فرانسیسی وزارت خارجہ کے مطابق انسانی حقوق کی پاسداری اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات تک طالبان کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے کا امکان نہیں۔ فرانس نے افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کے حقوق سے متعلق پالیسیوں پر اپنی تشویش بھی دہرائی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ افغانستان میں جاری انسانی اور معاشی بحران کے ساتھ سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال نہ صرف افغان عوام کے لیے تشویش کا باعث ہے بلکہ پورے خطے کے استحکام پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کے 56 رکن ممالک بھی افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے پانچ سال مکمل ہونے پر مشترکہ بیان جاری کر چکے ہیں، جس میں انسانی حقوق کی صورتحال اور خواتین و لڑکیوں پر عائد پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔