یونیورسٹی آف گوادر موجودہ قیادت میں کامیابی کی جانب گامزن ہے، مولانا ہدایت الرحمن

جمعرات 20 اگست 2026 22:08

گوادر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 اگست2026ء) رکن بلوچستان اسمبلی و رہنما جماعت اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمن نے یونیورسٹی آف گوادر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی اور یونیورسٹی کے تعلیمی و انتظامی امور، ترقیاتی منصوبوں اور مستقبل کی ضروریات پر تفصیلی تبادلہ? خیال کیا۔

اس موقع پر پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منظور احمد، رجسٹرار ڈاکٹر دولت خان، ڈائریکٹر فنانس رحمت اللہ، پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج گوادر نصیر احمد سمیت یونیورسٹی کے دیگر اعلیٰ انتظامی افسران بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران مولانا ہدایت الرحمن نے یونیورسٹی آف گوادر کی جانب سے خطے میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور نوجوانوں کو معیاری تعلیمی مواقع کی فراہمی کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور ان کی ٹیم کی فعال، مؤثر اور مدبرانہ قیادت کے باعث یونیورسٹی آف گوادر مختصر عرصے میں ترقی اور کامیابی کی جانب تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں قائم ہونے والا سازگار تعلیمی ماحول گوادر اور مکران کے نوجوانوں کے لیے ایک اہم موقع ہے، جہاں انہیں اپنی دہلیز پر معیاری اعلیٰ تعلیم کے حصول کی سہولت میسر آ رہی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ نوجوان ان مواقع سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اپنی علمی و پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید نکھاریں گے اور خطے کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔ مولانا ہدایت الرحمن نے یقین دہانی کرائی کہ وہ بلوچستان اسمبلی کے فورم پر اور اپنی ذاتی حیثیت میں یونیورسٹی آف گوادر کی ترقی، توسیع اور درپیش مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ گوادر میں ایک مضبوط اور معیاری اعلیٰ تعلیمی ادارے کا قیام نہ صرف مقامی نوجوانوں بلکہ پورے خطے کے روشن مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منظور احمد نے یونیورسٹی آف گوادر کی ترقی و توسیع کے لیے مولانا ہدایت الرحمن کے تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ہدایت الرحمن وقتاً فوقتاً یونیورسٹی کا دورہ کرکے اس کے مسائل اور ضروریات سے آگاہی حاصل کرتے ہیں اور ان کے حل کے لیے حتی المقدور عملی تعاون فراہم کرتے ہیں۔