مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان کی ہلاکت، ورثاء کا احتجاج

علی حیدر رواہی کے قتل کا الزام، مقدمے میں نامزد دیگر پولیس اہلکاروں کی گرفتاری اور انصاف کا مطالبہ

جمعرات 20 اگست 2026 19:05

جیکب آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 اگست2026ء) جیکب آباد میں مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے نوجوان کے ورثاء کا پولیس کے خلاف احتجاج۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے میرانپور تھانے کی حدود بیگاری پل کے قریب تین ہفتے قبل مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے علی حیدر رواہی کے ورثاء نے پولیس کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے دھرنا دیا اور پولیس کے خلاف نعریبازی کی، احتجاج میں مقتول کے ورثاء محمد صدیق رواہی اور مقتول کے بھائی ترک رواہی سمیت دیگر نے شرکت کی، اس موقع پر ورثائ نے الزام عائد کیا کہ علی حیدر کو مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیا گیا جس کے خلاف فائٹر ٹو کے انچارج واحد بخش چانڈیو، میر محمد ڈاہانی، قائم ڈاہانی سمیت 6 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، مظاہرین کے مطابق مقدمے میں نامزد ایک اہلکار نصیر کلہوڑو کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمان تاحال آزاد ہیں، مقتول کے ورثائ کا کہنا تھا کہ انہیں مقدمے سے دستبردار ہونے کے لیے دھمکیاں دی جا رہی ہیں، انہوں نے ڈی آئی جی لاڑکانہ اور ایس ایس پی جیکب آباد سے مطالبہ کیا کہ مقدمے میں نامزد باقی اہلکاروں کو فوری گرفتار کیا جائے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔