ججز کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ عدالتی احکامات نافذ ہوں گے یا عدالتیں بند ہوں گی، سہیل آفریدی

اگر طاقتور لوگ عدلیہ اور ججز کے احکامات نہیں مانتے تو پھر سب بغاوت پر اتر آئیں گے، پاکستان بنانا ریپبلک بن جائے گا اور جنگل کا قانون ہوگا، پریس کانفرنس

Faizan Hashmi فیضان ہاشمی جمعہ 21 اگست 2026 15:34

ججز کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ عدالتی احکامات نافذ ہوں گے یا عدالتیں بند ..
پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اگست2026ء)  وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ججز کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ پاکستان میں عدالتیں بند ہوں گی یا ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی جنہوں نے توہینِ عدالت کی ہے اور عدالتی احکامات نہیں مانے۔

پریس کانفرنس کے دوران سہیل آفریدی نے کہا کہ ججز کو اپنے احکامات پر عمل درآمد کروانا ہوگا، کیونکہ جب تک عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوگا، ہر پاکستانی یہ سوال کرے گا کہ اگر طاقتور لوگ عدلیہ اور ججز کے احکامات نہیں مانتے تو پھر سب بغاوت پر اتر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بنانا ریپبلک بن جائے گا اور جنگل کا قانون ہوگا، جس کا جتنا زور ہے وہ کرے گا۔

(جاری ہے)

جو جتنا طاقتور ہے، اتنا ظلم کرے گا اور اتنا ہی آئین و قانون کو پامال کرے گا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ ججز کو ابھی فیصلہ کرنا ہوگا اور ان کے خیال میں آج ہی فیصلہ ہونا چاہیے۔ اگر عدلیہ اپنے ہی فیصلے نافذ نہیں کرے گی تو پھر عوام کس طرف جائے گی۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کوئی چھوٹے انسان نہیں بلکہ پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہیں، جبکہ ان کی جماعت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔

اگر عمران خان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے تو عام پاکستانی کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے اور وہ اپنے مستقبل کو اس پاکستان میں کیسے دیکھے گا؟ انہوں نے کہا کہ تین ججز باقاعدہ حکم دیتے ہیں کہ عمران خان کا علاج شفا انٹرنیشنل اسپتال میں ہو، لیکن اس کے باوجود عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا گیا۔ سہیل آفریدی نے سوال اٹھایا کہ آخر اتنی ہٹ دھرمی کیوں کی جا رہی ہے اور آئین و قانون کو اپنے آپ سے بالاتر کیوں نہیں سمجھا جا رہا۔