کانگو میں ایبولا کا پھیلاؤ تیزی سے جاری، امدادی کارکنوں کا انتباہ

یو این ہفتہ 22 اگست 2026 10:00

کانگو میں ایبولا کا پھیلاؤ تیزی سے جاری، امدادی کارکنوں کا انتباہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 22 اگست 2026ء) اقوام متحدہ نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی وبا کے مسلسل پھیلاؤ کی اطلاع دیتے ہوئے عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ اس مرض پر قابو پانے اور زندگیوں کو تحفظ دینے کے لیے درکار ضروری امدادی وسائل مہیا کرے۔

ایبولا سے نمٹنے کے اقدامات پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی رابطہ کار جولین ہارنس نے کہا ہے کہ امدادی وسائل اور عملی اقدامات میں تاخیر اس وبا کو مزید مہلک، بے قابو اور مہنگا بنا رہی ہے۔

ملک میں وبا سے نمٹنے کے لیے درکار وسائل چند ہفتوں میں ختم ہو جائیں گے اس لیے فوری طور پر عالمی برادری کی مدد درکار ہے۔

Tweet URL

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 15 مئی کو وبا پھوٹنے کا اعلان ہونے کے بعد کانگو میں اب تک 5,290 افراد اس سے متاثر ہو چکے ہیں جن میں 2,516 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

مجموعی مصدقہ مریضوں میں سے 1,152 صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ 840 افراد اب بھی قرنطینہ یا ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ اس وبا سے اموات کی شرح 47.6 فیصد ہے جبکہ متاثرہ افراد سے رابطے میں آنے والوں کی نگرانی کی شرح 82.9 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

وبا کا تیز رفتار پھیلاو

جولین ہارنس نے ایبولا کے گڑھ صوبہ ایتوری کے شہر بونیا سے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ بیماری غیر معمولی حد تک تیز رفتار سے بڑھ رہی ہے۔

وبا اب اس قدر وسیع علاقے تک پھیل رہی ہے جو رقبے میں فرانس سے بھی بڑا ہے اور یہ پھیلاؤ ایبولا سے نمٹنے کی کوششوں سے کہیں زیادہ تیز ہے۔

وبا پھوٹنے کے بعد تین ماہ کے دوران 160 طبی کارکن بھی ایبولا کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سے سے 43 کی ہلاکت ہوئی ہے۔ طبی اور امدادی کارکنوں کو حملوں کا سامنا بھی ہے۔ کئی واقعات میں ایمبولینس گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا، ان پر پتھراؤ ہوا جبکہ طبی مراکز پر بھی حملے کیے گئے۔

بنیادی سہولیات کی شدید کمی

مشرقی کانگو کے ان چھ صوبوں میں بنیادی سماجی خدمات کا فقدان ایبولا کے خلاف کارروائی میں ایک اور بڑی رکاوٹ ہے جہاں یہ وائرس پھیل رہا ہے۔ ان میں ایتوری، شمالی کیوو، جنوبی کیوو، اوت-اویلے، تشوپو اور باس-اویلے شامل ہیں۔ یہ صورتحال وسائل سے مالا مال اس خطے میں کئی دہائیوں سے جاری تشدد کا براہ راست نتیجہ ہے۔

حکومت کے زیر انتظام مربوط طبی خدمات میں خلا اور بینکوں کی محدود تعداد نے بھی امدادی سرگرمیوں میں مزید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ وبا سے متاثرہ بہت سی جگہوں پر بینکاری کا نظام کام ہی نہیں کرتا جبکہ امدادی و طبی کارکنوں کو اجرت دینے کے لیے درکار رقم مطلوبہ جگہوں پر پہنچانا انتہائی مشکل ہے جس کی وجہ سے امدادی کارکنوں میں بے چینی پیدا ہوئی ہے۔

ایبولا کے خلاف امریکی امداد

امریکہ نے کانگو کی حکومت کو وبا سے نمٹنے کے لیے 8 کروڑ ڈالر فراہم کیے ہیں جن سے مریضوں کے لیے بستروں کی گنجائش بڑھانے، محفوظ تدفین کے انتظامات اور دیگر اقدامات میں مدد مل رہی ہے۔ تاہم، گزشتہ دو برس کے دوران امدادی وسائل میں آنے والی کمی نے امداد فراہم کرنے والی تنظیموں کی صلاحیت کو 30 فیصد سے زیادہ کم کر دیا ہے۔

ان مشکلات کے باوجود اقوام متحدہ کے کئی ادارے کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی)، عالمی ادارہ برائے اطفال (یونیسف)، عالمی ادارہ مہاجرت (آئی ایم او) اور دیگر شراکت دار اس مقصد کے لیے تندہی سے سرگرم ہیں۔