دہشتگردی کے متاثرین کو آن لائن ہراسانی سے بچانے کا یو این اقدام

یو این ہفتہ 22 اگست 2026 10:00

دہشتگردی کے متاثرین کو آن لائن ہراسانی سے بچانے کا یو این اقدام

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 22 اگست 2026ء) اقوام متحدہ نے دہشت گرد حملوں کے متاثرین کو آن لائن نقصان اور دوبارہ ذہنی صدمے سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک مہم شروع کی ہے جس میں ان لوگوں کے ہولناک تجربات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

دنیا بھر میں ہر سال دہشت گردی کے واقعات ہزاروں افراد کی جان لیتے اور بے شمار لوگوں کو زخمی یا معذور کر دیتے ہیں۔

ہر خطے سے دہشت گردی میں زندہ بچ جانے والے افراد کی جانب سے آن لائن نقصان اور ہراسانی کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں۔ دہشت گردی کے متاثرین کی انجمنوں کے نیٹ ورک (وی ٹی اے این) کی شروع کردہ اس مہم کے ذریعے ان لوگوں کے حقوق اور ضروریات کے لیے اجتماعی اقدامات کو فروغ دیا جائے گا۔ یہ نیٹ ورک اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد دہشت گردی نے قائم کیا ہے۔

(جاری ہے)

یہ اقدام جمعہ کو دہشت گردی کے متاثرین کی یاد اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے عالمی دن پر منعقدہ تقریب میں شروع کیا گیا۔ صومالیہ میں دہشت گرد حملے کا سامنا کرنے والی سینب ورسامے نے اقوام متحدہ کے زیراہتمام اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 21 اگست محض کیلنڈر پر درج ایک اور تاریخ نہیں۔ یہ وہ دن ہے جو انہیں یاد دلاتا ہے کہ انہوں نے کون سے لوگوں کو کھویا، وہ خود کون ہیں اور ان کی شخصیت کیسے تبدیل ہو رہی ہے۔

سینب ورسامے کا کہنا تھا کہ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں جعلی ویڈیوز اور غلط معلومات کے باعث حقیقت کو آسانی سے مسخ یا تبدیل کیا جا سکتا ہے جس سے اس جرم کے متاثرین کو نقصان پہنچتا ہے۔

UN Photo/Eskinder Debebe سال 2001 میں امریکہ کے شہر نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تباہی کا ایک منظر۔

امن اور جنگ میں انتخاب

ریچل گولڈ برگ پولن امریکا اور اسرائیل کی دہری شہریت رکھتی ہیں۔ ان کے 23 سالہ بیٹے ہرش ان 250 سے زیادہ لوگوں میں شامل تھے جنہیں 2023 میں اسرائیل کے نووا میوزک فیسٹیول پر حماس کے حملے میں یرغمال بنایا گیا۔ وہ 328 روز تک غزہ میں قید رہے جس کے بعد انہیں قتل کر دیا گیا۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا معاملہ دوسروں سے الگ نہیں۔

دنیا بھر میں لاکھوں والدین ایسے ہیں جنہی انہی کی طرح اپنے بچوں کو دفن کرنا پڑا۔

ریچل نے 94 برس قبل ممتاز سائنس دان البرٹ آئن سٹائن اور نفسیاتی تجزیے کے بانی سگمنڈ فرائڈ کے مکالمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'تہذیب کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا وہ جنگ کی طرف انسان کے فطری میلان کو مسلسل قابو میں رکھ پائے گی یا خود غرضانہ مفادات کی غلامی قبول کر لے گی حالانکہ اس کا فائدہ صرف چند طاقتور لوگوں کو ہی پہنچتا ہے۔

'

UN Photo/Eskinder Debebe نومبر 2015 میں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہونے والی دہشتگردی کے بعد اس وقت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کیمون متاثرین کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

ورلڈ کپ کی ہولناک رات

2010 میں افریقہ کے ملک یوگنڈا میں بہت سے لوگ بڑی سکرین پر فیفا ورلڈ کپ کا فائنل میچ دیکھ رہے تھے۔ اس دوران دو خودکش حملہ آوروں نے اس اجتماع میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس میں 70 سے زیادہ لوگ ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوئے جن میں حسن نڈگوا بھی شامل تھے۔

وہ رات ان کی زندگی میں ایک نئے عزم کا نقطہ آغاز بن گئی۔

انہوں نے نہ صرف خود کو اس صدمے سے نکالنے کا فیصلہ کیا بلکہ پرتشدد انتہاپسندی کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں میں بھی شامل ہو گئے۔

اس حملے کے بعد انہوں نے مذہب اسلام کی غلط تصویر پیش کیے جانے پر دل گرفتہ ہو کر ایک اور متاثرہ شخص کے تعاون سے یوگنڈا مسلم یوتھ ڈویلپمنٹ فورم قائم کیا۔ یہ ادارہ روزگار کی مہارتوں کے پروگراموں اور دیگر سرگرمیوں کے ذریعے اب تک ہزاروں نوجوانوں تک رسائی حاصل کر چکا ہے۔

حسن نڈگوا نے یو این نیوز کو بتایا کہ اس سانحے کے بعد انہوں نے جو سب سے زیادہ اطمینان بخش کام کیا وہ دہشت گردی کی جانب مائل نوجوانوں کو متبادل مواقع فراہم کرنے کی کوشش تھی۔ اب انہیں ایک روشن مستقبل دکھائی دے رہا ہے اور ان کے اندر امید نے دوبارہ جنم لیا ہے۔ یہ فورم مذہبی اور سماجی سطح پر رابطوں کے ذریعے پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف جدوجہد اور امن کے فروغ کا کام کر رہا ہے۔

UN News ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں دہشتگردی کے متاثرین کی یادگار۔

دہشت گردی کے خلاف اتحاد

اسی جذبے کی ترجمانی کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے تقریب کے لیے اپنے پیغام میں کہا کہ متاثرین کی داستانوں کو کبھی بھی ان کے استحصال کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے اور نہ ہی انہیں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مزید نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ سبھی کو روزانہ دہشت گردی کے متاثرین سے یکجہتی کا اظہار کرنا ہو گا اور ایسے مستقبل کی تعمیر کے لیے کوششیں ہونی چاہئیں جو تشدد اور خوف سے پاک ہو۔