جموں و کشمیر میں معمولاتِ زندگی کی بحالی کابھارتی دعویٰ زمینی حقائق کے برعکس ہے،کل جماعتی حریت کانفرنس

پیر 24 اگست 2026 12:26

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 اگست2026ء) بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ علاقے میں معمولاتِ زندگی اور امن کی بحالی کے بھارتی دعوے زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہیں کیونکہ کشمیری عوام آج بھی فوجی مظالم، چھاپوں، محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گرفتاریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری بیان میں کہا کہ مودی حکومت جان بوجھ کر جموں و کشمیر میں معمولاتِ زندگی کی بحالی کی ایک جھوٹی تصویر پیش کر رہی ہے تاکہ عالمی برادری کو گمراہ کیا جا سکے اور مقبوضہ علاقے میں موجود سنگین صورتحال کو چھپایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز اور تحقیقاتی اداروں کی جانب سے روزانہ چھاپے، محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں ،گرفتاریاں اور پوچھ گچھ نئی دہلی کے معمولاتِ زندگی کی بحالی کے کھوکھلے بیانیے کو بے نقاب کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

حریت ترجمان نے کہاکہ بھارتی فوجیوں کی بڑے پیمانے پر تعیناتی نے مقبوضہ علاقے کو ایک چھائونی میں تبدیل کر دیا ہے جہاں کشمیری عوام مسلسل خوف اور دبائو میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جابرانہ کارروائیوں سے مقبوضہ علاقے میں گھٹن کاماحول پیدا ہوا ہے جہاں بنیادی آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد ہیں اور سیاسی اختلافِ رائے کو ظالمانہ اقدامات کے ذریعے دبایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی نام نہاد معمولاتِ زندگی کی بحالی کا دعویٰ محض ایک فریب ہے جس کا مقصد کشمیری عوام کی سیاسی حقوق سے محرومی کوچھپانا ہے۔ حریت ترجمان نے کہا کہ معمولاتِ زندگی کی بحالی کے نئی دہلی کے پروپیگنڈے کا مقصد تنازعہ کشمیر کے بارے میں دنیا کو گمراہ کرنا اور کشمیریوں کے خلاف جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے عالمی توجہ ہٹا نا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا قریب سے جائزہ لے اور بھارت کو اس کے ظالمانہ اقدامات پر جوابدہ ٹھہرائے۔انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام کوفوجی طاقت سے دبانے یا معمولاتِ زندگی کا راگ الاپنے سے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام قائم نہیں ہو سکتا۔ ترجمان نے کہا کہ کشمیریوں کے حقِ خودارادیت سے بھارت کا مسلسل انکار علاقائی امن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو آزادانہ طور پر اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے تاکہ جموں و کشمیر میں حقیقی امن، استحکام اور معمولاتِ زندگی کی بحالی ممکن ہو سکے اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔