بڑے مقصد کیلئے عمران خان کی رہائی کیلئے مولانا صاحب آتے ہیں تو ویلکم کریں گے

لیکن مولانا وہی کام کررہے جو ساری عمر کیا، بلیک میل کرو اپنا کام نکالو، مجھے نہیں لگتا وہ تحریک کا حصہ بنیں گے، علی امین گنڈاپور

منگل 25 اگست 2026 00:28

بڑے مقصد کیلئے عمران خان کی رہائی کیلئے مولانا صاحب آتے ہیں تو ویلکم ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 24 اگست 2026ء ) سابق وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ بڑے مقصد کیلئے عمران خان کی رہائی کیلئے مولانا صاحب آتے ہیں تو ویلکم کریں گے۔ انہوں نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اسٹبلشمنٹ کیلئے خطرہ تھا، جس طرح میں نے ان کو بریچ کیا ہے یہ کوئی مذاق نہیں تھا، انہوں نے ہماری پارٹی کے لوگ میرے خلاف پلانٹ کئے اور عمران خان کو غلط بریف کیا، اب فائدہ یہ ہوا کہ لوگ موازنہ کررہے ہیں۔

میرے دور میں کیا تھا اور آج کیا ہو رہا ہے۔ سابق وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بڑے مقصد کیلئے عمران خان کی رہائی کیلئے مولانا فضل الرحمان آتے ہیں تو ہم ویلکم کریں گے۔ لیکن مولانا آ نہیں رہے، مولانا صاحب وہی کام کررہے ہیں جو ساری عمر انہوں نے کیا ہے۔

(جاری ہے)

بلیک میل کرو اپنا کام نکالو۔ مجھے نہیں لگتا مولانا فضل الرحمان عوامی تحریک کا حصہ بنیں گے۔

علی امین گنڈاپور نے اپنے انٹرویو میں مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے، وہ آئینی ترامیم کے وقت بھی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اپنے مفادات کیلئے پی ٹی آئی اور اپوزیشن کے اتحاد کی بات کر رہے ہیں۔ اگر واقعی بانی پی ٹی آئی کی رہائی ممکن ہوتی ہے تو انہیں بھی مولانا فضل الرحمان پر کوئی اعتراض نہیں۔

دوسری جاننب عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ و سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی ،ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، موجودہ ملکی حالات اور سیاسی منظرنامے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا. اس موقع پر سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بھی موجود تھے رہنماﺅں نے موجودہ سیاسی صورتحال، ملک کو درپیش چیلنجز، عوامی مسائل اور سیاسی و جمہوری معاملات پر اپنی آرا کا اظہار کیا، اس موقع پر موجودہ حالات میں سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطوں اور باہمی مشاورت کو مزید موثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا . ملاقات میں آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کے موثرکردار، جمہوری اقدار کے تحفظ اور ملک میں سیاسی استحکام کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔