جیکب آباد کے سرکاری اسکولوں میں تعلیمی نظام کا بھانڈا پھوٹ گیا

dکہیں اساتذہ کی بھرمار، کہیں بچوں کو پڑھانے والا کوئی نہیں،ناوڑا سمیت 13 اسکولوں میں 84 اضافی ٹیچر تعینات، تین اسکولوں میں 8 اساتذہ کی شدید کمی، برسوں سے ہیڈ ماسٹر بھی مقرر نہ ہوسکے پھر بھی بجٹوں کی لوٹ مار،4 ہیڈ ماسٹر سے محروم اسکولوں کے ایس ایس بی بجٹ سے گزشتہ سال ایک کروڑ 9 لاکھ 62 ہزار روپے خرچ، کانٹیجنسی مد میں بھی 5 لاکھ 4 ہزار 50 روپے نکل گئے، رواں مالی سال مزید 53 ہزار 500 روپے خرچ، رقم کہاں گئی وزیر تعلیم سے فوری تحقیقات کا مطالبہ

ہفتہ 29 اگست 2026 18:20

جیکب آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 29 اگست2026ء) جیکب آباد کے سرکاری اسکولوں میں تعلیمی نظام کا بھانڈا پھوٹ گیا، کہیں اساتذہ کی بھرمار، کہیں بچوں کو پڑھانے والا کوئی نہیں،ناوڑا سمیت 13 اسکولوں میں 84 اضافی ٹیچر تعینات، تین اسکولوں میں 8 اساتذہ کی شدید کمی، برسوں سے ہیڈ ماسٹر بھی مقرر نہ ہوسکے، پھر بھی بجٹوں کی لوٹ مار،4 ہیڈ ماسٹر سے محروم اسکولوں کے ایس ایس بی بجٹ سے گزشتہ سال ایک کروڑ 9 لاکھ 62 ہزار روپے خرچ، کانٹیجنسی مد میں بھی 5 لاکھ 4 ہزار 50 روپے نکل گئے، رواں مالی سال مزید 53 ہزار 500 روپے خرچ، رقم کہاں گئی وزیر تعلیم سے فوری تحقیقات کا مطالبہ ۔

تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میںسیکنڈری ایجوکیشن کے ماتحت سرکاری ہائی اسکولوں میں اساتذہ کی تعیناتی اور اسکول بجٹ کے استعمال نے محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق ضلع کے 13 سرکاری اسکولوں میں ضرورت سے کہیں زیادہ 84 اضافی اساتذہ تعینات ہیں، جبکہ دوسری جانب تین اسکول اساتذہ کی شدید قلت کا شکار ہیں اور وہاں مجموعی طور پر 8 اساتذہ کی ضرورت بتائی جارہی ہے۔

ذرائع کے مطابق گورنمنٹ ہائی اسکول ناوڑا میں 11 اضافی اساتذہ، سنگل سیکشن ہائی اسکول میں 19، گرلز ہائی اسکول میں 13، احمد میاں اسکول میں 5، کے جی اسکول میں 4، ریلوے اسکول میں 5، آباد اسکول میں 3، اردو میڈیم اسکول میں 3، مولاداد میں 5 جبکہ سردار امین اور حاجن شاہ سمیت دیگر اسکولوں میں بھی اضافی اساتذہ تعینات ہیں۔ یوں ایک طرف اسکولوں میں ضرورت سے زائد اسٹاف بیٹھا ہے تو دوسری طرف بعض اسکول بچوں کو پڑھانے کے لیے مطلوبہ اساتذہ سے محروم ہیں۔

محکمہ تعلیم کی یہ ناقص منصوبہ بندی آخر کس کے مفاد میں ہی یہ سوال اس وقت مزید سنگین ہوگیا ہے جب معلوم ہوا ہے کہ سیکنڈری ایجوکیشن کے ہائی اسکول ناوڑا، گرلز سنگل سیکشن، حاجن شاہ اور قادرپور میں برسوں سے ہیڈ ماسٹر کی تقرری تک نہیں کی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مستقل سربراہوں سے محروم ان چار اسکولوں کے باوجود گزشتہ مالی سال میں ایس ایس بی کی مد میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 9 لاکھ 62 ہزار روپے خرچ کیے گئے، جبکہ کانٹیجنسی بجٹ سے بھی 5 لاکھ 4 ہزار 50 روپے نکلوائے گئے۔

سوال یہ ہے کہ جب اسکول برسوں سے مستقل ہیڈ ماسٹر سے محروم رہے تو اتنی بڑی رقوم کس کی نگرانی میں، کن مدات میں اور کہاں خرچ کی گئیں معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا، رواں مالی سال میں بھی دو اسکولوں کے کانٹیجنسی بجٹ سے 53 ہزار 500 روپے نکالے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ رقم کس مقصد کے لیے نکالی گئی، کہاں خرچ ہوئی اور اس کا ریکارڈ کہاں ہی ان سوالات نے محکمہ تعلیم کے مالی معاملات پر مزید شکوک پیدا کردیے ہیں۔

تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک جانب سرکاری اسکولوں میں بچوں کو پڑھانے کے لیے اساتذہ کی کمی ہے، دوسری جانب بعض اسکولوں میں درجنوں اضافی اساتذہ تعینات کرکے سرکاری وسائل پر بوجھ ڈالا جارہا ہے۔ اگر اسٹاف کی حقیقی ضرورت کا تعین کیے بغیر تقرریاں کی گئی ہیں تو یہ محکمہ تعلیم کی انتظامی ناکامی ہے، اور اگر جان بوجھ کر اضافی اسٹاف تعینات کیا گیا تو معاملہ مزید سنگین نوعیت اختیار کرجاتا ہے۔

اساتذہ کی غیر مساوی تعیناتی اور کروڑوں کے اسکول بجٹ کے استعمال نے محکمہ تعلیم کی نگرانی، شفافیت اور مالی نظم و ضبط پر بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔والدین اور شہریوں نے وزیر تعلیم سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ جیکب آباد کے ان 13 اسکولوں میں اضافی 84 اساتذہ کی تعیناتی، تین اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، چار اسکولوں میں برسوں سے ہیڈ ماسٹر کی عدم تقرری اور ایک کروڑ سے زائد کے ایس ایس بی بجٹ سمیت کانٹیجنسی رقوم کے استعمال کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ریکارڈ درست ہے تو تفصیلات سامنے لائی جائیں اور اگر سرکاری بجٹ کے استعمال میں بے قاعدگی ہوئی ہے تو ذمہ دار افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے، کیونکہ تعلیم کے نام پر بجٹ تو جاری ہورہا ہے مگر اسکولوں میں انتظام، اساتذہ اور شفافیت کا فقدان بدستور برقرار ہے۔