مقبوضہ جموں وکشمیرکے دور دراز علاقوں میں ڈاکٹروں کی شدید قلت کا سامنا

اتوار 30 اگست 2026 13:20

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 اگست2026ء) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے دور دراز علاقوں میں ماہر اور مستند ڈاکٹروں کی قلت بدستور ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے جس کے باعث علاقے میں صحت کی سہولیات تک مساوی رسائی متاثر ہو رہی ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق امورِ داخلہ سے متعلق بھارتی پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی نے مقبوضہ جموں وکشمیرکے شعبہ صحت کے جائزے کے دوران ڈاکٹروں کی قلت کواجاگر کیا۔

پینل نے اس خلاء کو پٴْر کرنے اور صحت کی سہولیات سے محروم علاقوں میں طبی ماہرین کی مناسب دستیابی یقینی بنانے کے لیے مستقل بنیادوں پر بھرتیوں کے عمل کو تیز کرنے کی سفارش کی۔کمیٹی نے پوسٹ گریجویٹ طبی تعلیم اور ماہر ڈاکٹروں کی تربیت کو وسعت دینے، ڈسٹرکٹ ریزیڈنسی پروگرام کو مضبوط بنانے اور دشوار گزار علاقوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں کے لیے مناسب مالی مراعات اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع فراہم کرنے پر زور دیا۔

(جاری ہے)

پینل نے ڈیجیٹل صحت کے بنیادی ڈھانچے، ٹیلی میڈیسن نیٹ ورک اور ہنگامی طبی خدمات کو خاص طورپر قابلِ اعتماد انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور مسلسل نگرانی کے ذریعے بہتر بنانے کی بھی سفارش کی ۔پینل نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں زچگی اور تولیدی صحت کے اشاریوں میں بہتری کو بھی نوٹ کیا جن میں مجموعی شرحِ پیدائش 1.5 فیصد اور تقریباً تمام زچگیوں کا طبی اداروں میں ہونا شامل ہے۔ان سفارشات سے دور دراز اور سرحدی علاقوں میں عوام کو درپیش صحت کے مسائل اجاگر ہوئے ہیں جہاں مستند طبی ماہرین کی قلت خصوصی اور بروقت علاج تک رسائی کو مزید محدود کر سکتی ہے۔