ایک ہی چھاپے میں 6لاکھ شہریوں کے فنگر پرنٹس، بائیومیٹرک ڈیٹا برآمد ہونے کا انکشاف

جمعرات 3 ستمبر 2026 21:25

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 ستمبر2026ء) این سی سی آئی اے نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ میں انکشاف کیا ہے کہ ایک ہی چھاپے کے دوران ملزمان سے 6لاکھ شہریوں کے فنگر پرنٹس اور بائیو میٹرک ڈیٹا برآمد ہوئے۔ حکام نے بتایا کہ فیصل آباد سے گرفتار شخص کے قبضے سے 195ایکٹو موبائل سمز، 16 سمارٹ فونز اور مختلف بینکوں کے 81اے ٹی ایم کارڈز برآمد ہوئے ۔

ڈائریکٹر این سی سی آئی اے نے بتایا چوری شدہ بائیو میٹرک ڈیٹا اور برآمد شدہ سمز کے ذریعے شہریوں کے ساتھ دھڑا دھڑ مالیاتی فراڈ کیے جا رہے تھے، واٹس ایپ ہیکنگ کو مکمل ختم کرنے جا رہے ہیں۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں ملک بھر میں جاری سائبر فراڈ اور بینک اکانٹس ہیکنگ پر بریفنگ کے دوران چیئرمین پی ٹی اے نے اعتراف کیا موبائل کمپنیز کے اپنے اہلکار ڈیٹا لیک کرنے میں ملوث ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مثال دی کہ راجن پور میں راشن دینے کے بہانے ایک خاتون کا انگوٹھا لگوا کر سم نکالی گئی جو بعد میں دہشت گردی میں استعمال ہوئی۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے انکشاف کیا پاکستان میں اب رینٹ اے بینک اکائونٹ کی سکیم چل رہی ہے، لوگ پیسے لے کر اپنا بینک اکائونٹ کرائے پر دے دیتے ہیں، اکائونٹ ہولڈر کو پتہ ہوتا ہے کہ پکڑے جانے پر اسے دو ماہ جیل جانا ہے، وہ پہلے سے ڈیل کر کے اپنا حصہ لیتا ہے۔