سندھ انتظامی طور پر تباہ ہو چکا ہے اور صوبے میں نظام نہیں چل رہا، قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی

اجلاس کے دوران نثار کھوڑو نے تحریک التوا پیش کی۔ ہماری بات درست تھی لیکن حکومت کی جانب سے کوئی ڈھنگ کی بات نہیں کی گئی، علی خورشیدی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کرنا ہوگی تاکہ عام پاکستانی کو ریلیف مل سکے۔ اس پر بات کرنے کے بجائے پیپلز پارٹی نے نئے صوبوں کا "منجن" دے دیا

جمعرات 3 ستمبر 2026 22:00

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 ستمبر2026ء) ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماء اور سندھ اسمبلی قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے کہا ہے کہ سندھ انتظامی طور پر تباہ ہو چکا ہے اور صوبے میں نظام نہیں چل رہا۔ سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی خورشیدی نے کہا کہ اجلاس کے دوران نثار کھوڑو کی جانب سے تحریک التوا پیش کی گئی۔

ہماری بات درست تھی لیکن حکومت کی جانب سے کوئی ڈھنگ کی بات نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ جب سندھ کی تقسیم کے حوالے سے قرارداد پیش ہو چکی ہے تو پیپلز پارٹی کیوں لسانی تفریق پیدا کرنا چاہتی ہے۔ ہم سندھ میں انتظامی یونٹس اور مالیاتی خود مختاری کی بات کر رہے ہیں۔علی خورشیدی نے کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کرنا ہوگی تاکہ عام پاکستانی کو ریلیف مل سکے۔

(جاری ہے)

اس پر بات کرنے کے بجائے پیپلز پارٹی نے نئے صوبوں کا "منجن" دے دیا۔ ہم نے اسپیکر سے کہا تھا کہ اس معاملے پر بحث نہ کرائی جائے کیونکہ اس سے تفریق پیدا ہوگی لیکن جان بوجھ کر پیپلز پارٹی نے اس پر بحث کروائی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کون چاہتا ہے کہ یہ نظام حکومت چلی ایم کیو ایم نے انہیں بے نقاب کر دیا ہے۔ کون چاہتا ہے کہ سندھ کی تقسیم ہو یہ اس جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس صوبے میں نظام نہیں چل رہا۔ بچوں کی تعلیم سمیت کوئی سہولت موجود نہیں۔ یہ صوبہ انتظامی طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ ہم انتظامی یونٹس کو مالی طور پر بااختیار بنانے کی بات کر رہے ہیں۔